تاریخ افکار اسلامی — Page 349
تاریخ افکا را سلامی ۳۴۹ حسن أوليك رفيقا نيك الفصل مِنَ اللهِ وَكَفَى بِاللهِ عَلِيمًا سُنَ یعنی جو لوگ اللہ اور اس رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان انعام پانے والے لوگوں میں شامل ہوں گے جو ( علی حسب المراتب ) نبی ، صدیق ، شہید اور صالح ہیں اور یہ کتنی عمدہ رفاقت اور گروپنگ ہے۔سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل پر مبنی ہے اور صورت واقعی کے لئے اللہ کی یہ (فعلی) شہادت کافی (وزنی اور بڑی کامل ) ہے۔قرآن کریم کی یہ آیات دراصل اُس سوال کا جواب ہیں جو سورہ فاتحہ میں سکھائی گئی دعا اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ُيسَرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ وہ منعم علیہم کون ہیں جن کے راستہ پر چلنے کے لئے یہ دعا سکھائی جا رہی ہے۔سو ان آیات میں اس سوال کا جواب دیا گیا کہ وہ منعم عليهم نبی ، صدیق ، شہید اور صالح ہیں اور اللہ تعالی اور اس رسول کی کچی پیروی کرنے والے امت محمدیہ کے افراد یہی انعام پائیں گے اور یہی درجات حاصل کریں گے۔سورہ نور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ نَيَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَدِلَهُمْ مِن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمَنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفُسِقُونَ " یعنی اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں سے جو ایمان لائے اور ( ایمان کے تقاضا کے مطابق ) مناسب حال عمل کئے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا اور جو دین اُس نے اُن کے لئے پسند کیا ہے اُسے ان کے لئے مضبوط اور مستحکم کر دے النساء: ۷۷٠ اس وضاحت سے ظاہر ہے کہ علامہ اقبال کا یہ اعتراض درست نہیں کہ احمدیوں کے نز دیک محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی روحانیت ایک سے زیادہ نبی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔( حرف اقبال صفحه ۱۵۱۰۱۵) الفاتحة : ٧٠٦ النور : ۵۶