تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 17 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 17

تاریخ افکا را سلامی K عَرْضِ وَلَا شَيْءٍ سِوَى المُدرِكِ۔اہل السنت کے نزدیک اللہ تعالی اور اس کی صفات قدیم اور ازلی ابدی ہیں اور باقی تمام کائنات حادث ہے اور وہ جواہر اور اعراض پر مشتمل ہے اور بمطابق آیت کریمہ و أخطی كُلَّ شَيْءٍ عَدَدا۔ایسے اجزاء سے مرکب ہے جن کا مزید تجزیہ ممکن نہیں اور جنہیں فلسفہ کی اصطلاح میں جُزْ لَا يَتَجوی کہا گیا ہے جبکہ فلاسفہ اور نظام معتزلی کے نزدیک کا ئنات ایسے اجزاء سے مرکب ہے جن کی تجزی اور تقسیم لامحدود ہے۔گویا یونانی فلاسفہ جو بالعموم ایسی کسی چیز کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے جس کی مزید تقسیم نہ ہو سکے کی طرح وہ جُز لا ينجری کے موجود ہونے کے قائل نہیں۔فلاسفہ یہ بھی مانتے ہیں کہ افلاک کی طبیعت کون و فساد، فنا اور تفرق کو قبول نہیں کرتی یعنی وہ ابدی ہیں جبکہ اہل السنت اس نظریہ کو درست تسلیم نہیں کرتے۔ان کے نزدیک ماسوی الله کوئی چیز بھی ابدی نہیں۔سب اشیاء بمطابق آیت کریمہ كُلِّ شَيْءٍ مَالِكَ إِلَّا وجھہ سے فانی اور نابود ہو جائیں گی۔اہل السنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ صانع عالم ہے۔تمام جواہر اور اعراض کو اسی نے پیدا کیا ہے جب کہ بعض قدریہ معتزلہ کہتے ہیں کہ اعراض یعنی حرکات و افعال وغیرہ اللہ تعالیٰ کے مخلوق نہیں آئ قَالُوا إِنَّ الْافَعَالَ الْمُتَوَلَّدَةَ أَى الطَبْعِيَّةَ لَا فَاعِلَ لَهَا یعنی یہ اعراض جسم کی طبیعت اور فطرت کا ذاتی تقاضہ ہیں۔فَاللَّهُ تَعَالَى لَمْ يَخْلُقَ شَيْئًا مِّنَ الْأَعْرَاضِ وَإِنَّمَا خَلَقَ الْجَوَاهِرَ وَالاجسام۔مثلاً جب کوئی جسم وجود میں آئے گا تو لازماً اس میں کوئی نہ کوئی رنگ خود بخود ظاہر ہوگا کیونکہ کوئی جسم رنگ کے بغیر وجود نہیں پاسکتا۔اہل السنت کے نزدیک صانع عالم ذات واحد ہے جبکہ شنویہ اور مجوس کے خیال میں صانع عالم دو ہیں یعنی نور و ظلمت اور دونوں قدیم ہیں۔مجوسیوں کے نزدیک صانع خیر یعنی نور قدیم ہےاور اس کا نام یزداں ہے اور صانع شریعنی ظلمت حادث ہے اور اس کا نام آخـر مــن ہے۔عیسائیوں کے نزدیک خدا صانع اول ہے اور صانع ثانی صحیح ہے۔معتزلہ قدریہ میں سے احمد بن خابط کا بھی یہی نظریہ ہے اس کا کہنا ہے کہ مسیح مدیر عالم اور خالق ثانی ہے۔بعض شیعوں کے نز دیک الجن: ۲۹ ۲ القصص: ۸۹