تاریخ افکار اسلامی — Page 18
تاریخ افکا را سلامی IA کائنات کی تدبیر حضرت علی اور ان کی اولاد کے سپر د ہے اور یہ سب دوسرے درجہ کے خالق ہیں۔یعنی صانع ثانی ہیں۔اہل السنت کے نزدیک صانع عالم محدود نہیں ، اس کی کوئی حد بندی نہیں کی جاسکتی جبکہ ہشام بن الحکم رافضی کا کہنا ہے کہ وہ محدود ہے۔اس کا قد اس کی اپنی بالشت کے لحاظ سے سات بالشت ہے اور کرامیہ فرقہ کہتا ہے کہ خدا کا جو حصہ عرش سے متصل اور ملاقی ہے وہ محدود ہے اور اس کی نشست کے برابر عرش کی چوڑائی ہے اور باقی اطراف سے وہ لا محدود ہے۔اَنْ هُوَ مَحْدُودٌ مِّنَ الْجِهَةِ الَّتِي يَلَا قِيَ مِنْهَا الْعَرْشَ وَلَا نِهَا يَةٌ مِنْ خَمْسِ جِهَاتٍ سِوَاهَا۔اہل السنت کے نزدیک صورت اور اعضاء کے لحاظ سے صانع عالم کی کوئی تعریف اور تشریح ممکن نہیں جبکہ بعض رافضی کہتے ہیں کہ وہ نور ہے اور انسانی صورت رکھتا ہے۔أى أنه على صُوَرَةِ إِنسَانِ مِنْ نُورٍ عَلَى رَأْسِهِ وَفَرَةٌ سَوَدَاءُ مِنَ نُورٍ أَسْوَدَ وَنِصْفُهُ الْأَعْلَى مُجَوَفٌ وَ نِصْفُهُ الأسْفَلُ مُصْمَتٌ وَقَالَ الْمُغِيْرِيَّةُ مِنَ الرَّوَافِضِ إِنَّ أَعْضَاءَ اللَّهَ عَلَى صُورَةِ حُرُوفِ الْهِجَاءِ عَيْنُ اللَّهُ عَلى صُورَةِ "ع" وَ فَرْجُ اللَّه عَلَى صُورَةِ » مَثَلًا فَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ - اہل السنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ حرکت و سکون ، رنج والم وغیرہ کیفیات سے پاک ہے جبکہ بعض رافضیوں کے نزدیک وہ چلتا پھرتا ہے ، تھک بھی جاتا ہے، آرام بھی کرتا ہے، غم بھی کھانا ہے اور خوش بھی ہوتا ہے۔اہل السنت کے نزدیک خدا کی بعض صفات مثلاً حیات، قدرت، علم، ارادہ اور اس کی صفت سمع و بصر اور صفت کلام یہ سب از لی اور ابدی اور قائم بالذات ہیں۔جبکہ بعض معتزلہ اور بعض شیعہ کہتے ہیں کہ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ لَهُ حَيَاةٌ وَلَا عِلْمٌ وَلَا قُدْرَةٌ وَلَا سَمْعٌ وَلَا إِرَادَةً وَلَا كَلام بَلْ يَخْلُقُ هَذِهِ الصَّفَاتِ فِى الْمَخْلُوقِ كَتَخْلِيْقِ الْكَلامِ فِي الشَّجَرِ أَوْ فِي قَلْبِ الْإِنْسَانِ وَ زَعَمَ زَرَارَةُ بْنُ أَعْيُنِ وَاتَّبَاعُهُ مِنَ الرَّوَافِضِ إِنَّ حَيَاةَ اللَّهِ تَعَالَى وَ قُدْرَتَهُ وَ عِلْمَهُ وَسَائِرَ صِفَاتِهِ حَادِثَةٌ وَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ حَيَّا وَلَا قَادِرًا وَلَا عَالِمًا حَتَّى خَلَقَ لِنَفْسِهِ