تاریخ افکار اسلامی — Page 331
تاریخ افکارا سلامی وہ آکر اس موعود کے لئے راہ ہموار کرے گا چنانچہ لکھا ہے۔دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے کے پیشتر میں ایلیا (الیاس ) نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا اور وہ باپ کا دل بیٹے کی طرف اور بیٹے کا باپ کی طرف مائل کرے گا مبادا میں آؤں اور زمین کو ملعون کروں ملے ان واضح پیشگوئیوں کے ہوتے ہوئے بھی جب وہ موعود آیا اکثر یہودیوں نے اُسے پہچاننے سے انکار کر دیا کیونکہ انسانی طبیعت ہمیشہ مجو به پسند رہی ہے۔سادہ سی بات کو بھی افسانہ کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔سواسی کے مطابق آنے والے مسیح کے بارہ میں بھی یہودیوں نے عجیب و غریب تصورات اپنا ر کھے تھے مثلاً وہ سمجھنے لگے تھے کہ مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا نبی خود آسمان سے نازل ہوگا اور مسیح کی تصدیق کرے گا۔اسی طرح مسیح کی زیر دست روحانی قوت کے مقابلہ میں دشمن آناً فاناً تباہ اور بر باد ہو جائے گا اور یہودیوں کو بیٹھے بٹھائے بادشاہی مل جائے گی اور مسیح ان کا بادشاہ بن کر ساری دنیا پر حکومت کرے گا اور آن کی آن میں اُن کی بگڑی بنا دے گا۔خود یہودیوں کو نہ کوئی قربانی دینی پڑے گی اور نہ کسی قسم کی جد و جہد کی ان کو ضرورت ہوگی اور بلا کسی محنت کے دنیا بھر کی نعمتیں ان کی جھولی میں آگریں گی لیکن جب مسیح ان کے ان غلط تصورات کے بر عکس آیا اور اُس نے اپنے آپ کو اسرائیل کے لئے بطور نجات دہندہ پیش کیا تو یہودی مسیح کے اس دعوی کو سن کر سخت متعجب ہوئے اور بھر کر شدید مخالفت پر اتر آئے اور مسیح کو استہزاء کا نشانہ بنایا۔کانٹوں کا تاج بنا کر ان کو پہنایا۔ٹھٹھا کیا اور مخول کے رنگ میں ان کے پیچھے پیچھے جا کر نعرے لگانے لگے کہ لوگو! دیکھو یہ ہمارا با دشاہ آیا ہے۔خود بیکس اور لاچار لیکن دعوی یہ کہ وہ ہمارے لئے طاقت کا سر چشمہ ہے۔پاس نہ طاقت ہے اور نہ دولت اور آیا ہمیں حکومت دلانے اور دوانمند بنانے ہے اور نجات کا مثر وہ سنا رہا ہے۔یہودیوں نے یہ اعتراض بھی کیا کہ اُس عظیم موعود سے پہلے ایلیا نبی نے آنا تھا وہ کہاں ہے؟ حضرت مسیح نے یہودیوں کے ان اعتراضات کے جواب میں فرمایا۔اے نا سمجھو ! اگر تم ملا کی باب ۴ آیت ۵