تاریخ افکار اسلامی — Page 330
تاریخ افکا را سلامی ہونے کے محض تعصب اور ضد ہو تیلا پن اور کینہ پروری کی وجہ سے نہ وہ حضرت اسماعیل کی عظمت کے قائل ہیں اور نہ ان کی نسل کی کوئی قدر کرتے ہیں بلکہ طرح طرح کی تاویلیں کر کے حضرت اسماعیل اور ان کی اولاد کو بنظر حقارت دیکھتے ہیں۔یہ تو تکبر استعلا اور انکار کی ایک مثال ہے ورنہ تفصیل میں جائیں تو سینکڑوں ایسی مثالیں مل جائیں گی جن میں حق کے طالبوں کے لئے بڑی عبرت کے سامان ہیں تا ہم اس وقت تین خاص عظیم مصلحین اور ہادیوں کا کسی قدر تفصیلی ذکر ہمارے مدنظر ہے۔ان میں سے پہلے عظیم موعود حضرت عیسی بن مریم ہیں جن کی آمد کے بارہ میں بائبل کی واضح پیشگوئیاں موجود ہیں مثلاً لکھا ہے۔’اے بنت حیون تو نہا بیت شادمان ہو، اے دختر یروشلیم خوب للکار کیونکہ دیکھ تیرا با دشاہ تیرے پاس آتا ہے۔وہ صادق ہے اور نجات اُس کے ہاتھ میں ہے۔وہ حلیم ہے وہ گدھے پر بلکہ جوان گدھے پر سوار ہے۔وہ قوموں کو صلح کا مشر دہ دے گا اور اُس کی سلطنت سمندر سے سمندر تک اور دریائے فرات سے انتہائے زمین تک ہو گی لے۔پھر لکھا ہے۔اُس روز گناہ اور نا پا کی دھونے کو داؤد کے گھرانے اور میر و علیم کے باشندوں کے لئے ایک سونا پھوٹا نکلے گا۔ایک اور جگہ لکھا ہے کے ساتھ ہوا کے کی کےدرمیان اُس کی قبر شریروں کے درمیان ٹھرائی گئی اور وہ اپنی موت میں دولت مندوں علاوہ ازیں بائبل کے بیان کے مطابق اس عظیم وجود کے لئے ایک اور بڑا نشان مقرر ہوا اور وہ یہ کہ اُس موعود کے آنے سے پیشتر ایلیا نبی نازل ہو گا جو رتھ سمیت آسمان پر چلا گیا تھا گئے زکریاہ باب ۹ آیت ۱۰۰۹ متی باب ۲۱ آیت ۵ زکریا هاب ۱۳ آیت ۱ س سعیا میا ب ۵۳ آیت ۹ ۴ ۲ - سلاطین باب ۲ آیت ا ایلیا و بگولے میں ہو کر آسمان پر جاتا رہا