تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 332 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 332

تاریخ افکارا سلامی Fer میری مانو اور اطاعت کرو اور جو کچھ میں کہتا ہوں اُسے سنو تو اللہ تعالیٰ وہ تمہیں وہ ساری برکتیں دے گا جن کی تم آنے والے مسیح سے توقع رکھتے ہو اور جو قربانیاں ضروری ہیں انہیں میرے کہنے کے مطابق پیش کرو تو غیر معمولی حالات میں تمہیں دشمن پر وہ غلبہ بھی حاصل ہو گا جس کی مثال تم نے گزشتہ قوموں میں نہیں دیکھی ہوگی۔رہا ایلیا نبی کا پہلے آنا اور آسمان سے نازل ہونا تو وہ ایک تمثیل ہے کیونکہ خود ایلیا نبی نے اپنے سابقہ وجود کے ساتھ آسمان سے نہیں اترنا وہ تو فوت ہو چکا ہے اس لئے اس کا آسمان سے نازل ہونا بطور تمثیل کے ہے جو یکی پتسمہ دینے والے کے روپ میں آگیا ہے۔چنانچہ مسیح نے یہودیوں سے کہا۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحنا پتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں۔۔۔۔۔چا ہوتو ما نو ، ایلیاہ جو آنے والا تھا وہ یہی ہے۔جس کے سننے کے کان ہوں وہ سن لے۔پھر لکھا ہے میں تم سے کہتا ہوں کہ ایلیاہ تو آپکا اور انہوں نے اس کو نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اُس کے ساتھ کیا ہے مقام غور ہے کہ آخر صحیح اور سچ کیا نکلا وہ جو یہودی کہتے تھے یا وہ جو مسیح نے کہا کیونکہ جو آنے والا تھا وہ تو عین وقت پر آیا۔نثانوں کے ساتھ آیا لیکن یہودیوں نے اپنی نفسانی خواہشات اور ذاتی خود ساختہ تصورات کے مطابق نہ یا کر اُسے رد کر دیا اور اُس کو نیست و نابود کرنے کے در پے ہو گئے۔آنے والا آ گیا اور سعادتمندوں اور سمجھداروں نے اُسے قبول بھی کر لیا اور برکتوں پر برکتیں پائیں گے لیکن یہودیوں کے ایک حصہ نے نہ مانا اور اپنے مزعومہ موعود کا انتظار کرتے رہے اور اب تک انتظار کر رہے ہیں اور بِحَبْلٍ مِّنَ النَّاس کے سہارے زندہ ہیں۔متنی با با آیت ۱۱ تا ۱۵ متنی باب ۱۷ آیت ۱۲ سے ان برکتوں اور ناشکری کی صورت میں اس پر سزا کا ذکر قرآن کریم کی سورۃ المآئدة کی آیت نمبر ۱۲ تا نمبر ۱۶ میں ہے۔