تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 310 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 310

تاریخ افکا را سلامی ٣١٠ اٹھارھویں صدی عیسوی اور اس کے بعد اصلاح امت کی چند متفرق کوششیں اٹھارھویں صدی جو مسلمانوں کے دینی زوال ، سیاسی علمی او را قتصادی تنزل کی صدی ہے اس میں چند دردمند مصلحین نے اسلامی دنیا کے اس عالمگیر زوال پر بند لگانے کی کوشش کی ان میں سے محمد بن عبدالوہاب نجدی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، سید احمد بریلوی اور مہدی سوڈانی کی تحریکات کے اثرات خاصے وسیع تھے لیکن یہ اثرات کسی عالمگیر حر کی انقلاب کا باعث نہ بن سکے۔تحریک وَلِى اللَّهی اٹھارھویں صدی میں جبکہ مسلم دنیا ایک عالمگیر زوال کی زد میں تھی برصغیر ہند و پاک میں ایک علمی اور اصلاحی تحریک کا آغاز ہوا اس تحریک کے بانی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تھے۔آپ ۱۷۰۳ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد ماجد کا نام شاہ عبدالرحیم تھا جو دلی کے ممتاز علماء میں سے تھے اور فقہ کی مشہور کتاب فتاوی عالمگیریہ کے مرتبین میں شامل تھے جو نامور مغل بادشاہ اور نگ زیب عالمگیر کے حکم سے تیار ہوئی تھی۔حضرت شاہ ولی اللہ کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد اورنگ زیب کا انتقال ہو گیا اور اس کے بعد عظیم مغل سلطنت میں زوال کے آٹا رظاہر ہونے لگے تھے۔شاہ ولی اللہ صاحب نے ابتدائی علوم اپنے والد ماجد اور دہلی کے دوسرے نامورا ساتذہ سے پڑھے کچھ عرصہ اپنے والد صاحب کے قائم کردہ مدرسہ رحیمیہ میں درس وتدریس کا فریضہ سرانجام دیا۔جب آپ کی عمر تمہیں سال کے قریب ہوئی تو آپ فریضہ حج ادا کرنے کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے وہاں آپ نے حرمین شریفین کے مشہورا ساتذہ سے تعلیم حاصل کی اور رحد میٹ میں خاص مہارت پیدا کی۔وہاں کے اساتذہ میں سے آپ سب سے زیادہ شیخ ابو طاہر مرد فی سے متاثر ہوئے۔دو سال کے بعد آپ واپس آئے اور پھر سے مدرسہ رحیمیہ میں پڑھانا شروع کر دیا۔ساتھ ساتھ تالیف و تصنیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔آپ کی مشہور کتابوں میں سے چند کے نام یہ ہیں۔الفوز الکبیر جس میں تفسیر القرآن کے اصول وضوابط پر بحث ہے۔مصفی اور تَنْوِيرُ الْحَوَالِک کے نام سے موطا امام مالک کی دو شر میں لکھیں۔ایک عربی میں اور دوسری فارسی زبان میں۔