تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 311 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 311

تاریخ افکا را سلامی تَفْهِيْمَاتِ الہیہ اس میں تقرب الہی اور تصوف کے اسلوب و اصول اورمنازل سلوک کی وضاحت ہے۔آپ کی سب سے مشہور اور جامع کتاب حُجَّةُ اللهِ البَالِغہ “ ہے جس میں مقاصد شریعت، فلسفه عبادت اور اصول دین کی حکیمانہ تشریح و تفصیل ہے۔یہ بڑے پائے کی علمی کتاب ہے جس سے حضرت شاہ صاحب کے کمال علمی اور فہم دین میں مہارت کا پتہ چلتا ہے۔آپ نے اپنی اس کتاب میں بیان کردہ دینی حکمتوں کے حوالہ سے اپنی اصلاحی تحریک کی بنیا د رکھی اور مسلم معاشرہ کی دینی اور اخلاقی بیماریوں کے لئے علاج ڈھونڈنے کی کوشش کی اور اس بات پر زور دیا کہ دین کے فروغ کے لئے ایک مثالی معاشرہ کے قیام کی ضرورت ہے۔آپ نے ان مقاصد کے حصول کے لئے درس وتدریس اور تالیف و تصنیف کے ذرائع کو اختیار کیا۔آپ کا دوسرا بڑا کارنامہ دوسری زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کا آغاز ہے۔نا معلوم مدت سے مسلم معاشرہ اس بات کا قائل چلا آ رہا تھا کہ کسی دوسری زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنا جائز نہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عام معاشرہ قرآن کریم سے دور چلا گیا اور قرآنی علوم سے واقفیت صرف گنتی کے چند علما ء تک محدود ہو کر رہ گئی اور اس کا تعلق بھی زیادہ تر فقہی مسائل سے تھا۔قرآن کریم کے باقی معارف سر بستہ راز تھے اور عوام صرف تلاوت کی حد تک قرآنی برکات سے واقف تھے۔جب حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن کریم کے فارسی ترجمہ کا آغاز کیا تو علماء زمانہ کی طرف سے آپ کی سخت مخالفت ہوئی۔عوام کو اشتعال دلایا گیا اور آپ کے مدرسہ پر پتھراؤ کرایا گیا لیکن جس راہ کو آپ حق سمجھتے تھے اس پر آپ برابر گامزن رہے اور پھر آہستہ آہستہ علماء اور عوام کی مخالفت کم ہوتی چلی گئی۔آپ کے لائق بیٹوں شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر نے اُردو زبان میں قرآن کریم کے تراجم کئے۔شاہ عبد القادر کے ترجمہ کو تو اس زمانہ کے اردو ادب کا ایک شاہکار قرار دیا گیا ہے۔آپ کا تیسرابڑا کارنامہ ہندی مسلمانوں کو احادیث رسول کی طرف متوجہ کرنا تھا۔اس سے پہلے علماء اور عوام زیا دہ تر فقہی مسائل میں منہمک رہتے تھے اور اس سے آگے قرآن وحدیث کی طرف ان کی نظر نہ جاتی تھی۔بر صغیر میں علوم حدیث کے فروغ کا سہرا حضرت شاہ ولی اللہ کے سر بندھتا ہے اور تاریخ کا یہ ایک اہم واقعہ ہے۔