تاریخ افکار اسلامی — Page 309
تاریخ افکا را سلامی ٣٠٩ کرامیہ کا یہ نظر یہ بھی ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے حکیم ہونے کے خلاف ہے کہ وہ آغاز کائنات اور تخلیق انسان کے بعد ہی نبی بھیج کر اُسے کامل اور مکمل دائگی شریعت دے دیتا جبکہ اہل السنت کے نزدیک ایسا کرنا جائز اور ممکن تھا۔این کرام کے نزدیک بیک وقت دو خلیجے اور امام ہو سکتے ہیں جواپنے اپنے حلقہ میں واجب الا طاعت ہوں جیسے حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ اپنے اپنے حلقہ کے سربراہ تھے اگر چہ علی امام بر حق بمطابق سنت تھے اور معاویہ متقلب اور غیر علی السنۃ لیکن اپنے اپنے دائرہ اقتدار میں دونوں واجب الاطاعت تھے گویا این کرام کے نزدیک امام عادل ہو یا باغی اور طافی اُس کی اطاعت اور اس کے احکام کو تسلیم کرنا امن اور مصلحت عامہ کی بنا پر ضروری ہے ہے کرامیہ کے نزدیک ازلی اقرار جس کی طرف الستُ بِرَبِّكُمُ قَالُوا بَلی میں اشارہ کیا گیا ہے۔دنیا میں اس ازلی اقرار کا کم از کم ایک ہا را عادہ ضروری ہے۔کرامیہ کے نزدیک تجہیز و تکفین فرض کفایہ ہے جبکہ نماز جنازہ اور غسل سنت کفایہ ہے قبل ان السلطان محمود بن سبکتگین اضطهد الاشاعرة و حمل الناس على اعتناق مذهب الكرامية وقرب علماء هم و انكتل بالاحناف وقد تاثر بمذهب الكرامية من الصوفياء المشهورة الهروى الانصاري و من السلفية اكبر مفكرى الاسلام تقى الدين ابن تيمية (تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ۵۱ و ۳۱۵) الفرق بين الفرق صفحه ۱۲۴ تا ۱۶۹ - تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ۲۱۶۰۳۰۸