تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 299 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 299

تاریخ افکا را سلامی ٢٩٩ نظام صحابہ کو بُرا بھلا کہنے سے بھی نہ ہچکچاتا تھا۔مثلاً اُس کا کہنا تھا کہ (والعیاذباللہ ) إِنَّ أَبَا هُرَيْرَة كَانَ أَكذَبَ النَّاسِ وَإِنَّ عُمَرَ شَكُ يَوْمَ الحُدَنِيَّةِ وَإِنَّهُ ضَرَبَ فَاطِمَةَ وَمَنَعَ مِبْرَاثَ الْعِتْرَةِ وَابْتَدَع صَلوةَ التراويح - الْمَعْمَرِیہ اور اس کے نظریات یہ فرقہ معمر بن عباد معتزلی کا پیر د تھا۔اس کے بارہ میں صاحب طبقات المحولہ لکھتا ہے۔كَانَ مَعْمَرٌ عَالِمًا عَدْلًا وَ أَنَّ الرَّشِيدَ وَجَّهَ بِهِ إِلَى مَلَكِ السِّنْدِ لِمَنَاظِرَهُ معمر کا نظریہ تھا کہ اعراض کو اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کیا بلکہ ان کا ظہو ر طبعی ہے یعنی یہ اجسام کی طبیعت کے تقاضے ہیں۔گو یا موت و حیات اور دوسرے اعراض جسم کے طبعی تقاضے اور کوائف ہیں اس لئے خدا نہ مخینی ہے اور نہ معیت نیز معمر کے خیال میں اعراض لامتناہی ہیں۔سے معمر کے نز دیک انسان صرف رُوح کا نام ہے جسم انسانی روح سے زائد چیز ہے۔جزا سزا بھی رُوح کو ملے گی انى هُوَ فِى الْجَنَّةِ مُنْعَمْ وَ فِي النَّارِ مُعَذَّبٌ۔اُس کا یہ بھی نظر یہ تھا کہ رُوح کے بارہ میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ انة طويل عريض عميق ذُو وَرْنٍ سَاكِنٌ مُتَحَرَكَ وَغَيْرُهَا مِنَ الْكَوَائِفِ الْجِسْمِيَّةِ - فلاسفہ خدا کی بھی یہی تعریف کرتے ہیں مثلاً وہ کہتے ہیں اَنَّ اللهَ تَعَالَى حَيٍّ ، قَادِرٌ ، عَالِمٌ، حَكِيمْ، مُنَزَّةٍ عَنْ أَنْ يَكُونَ مُتَحَرِّكًا أَوْ سَاكِنَا أَوْ حَارًا أَوْ بَارِدًا أَوْ رَطْبًا أَوْ يَابِسًا أَوْ ذَا لَوْنِ اَوْ وَزْنٍ أَوْ طَعْمِ أَو رَائِحَةٍ فَأَيُّ فَرْقٍ بَيْنَ الرُّوحِ الإِنْسَانِي وَالإله الثَّمَامِيَّه اور اُس کے نظریات ي فرد ثَمَامُهُ مِنْ اَشْرَسُ المَيْرِ ی کا پیرو تھا۔ثمامہ بن نمیر کے موالی میں سے تھا۔مامون الرشید ، معتصم او رواثق کے عہد میں حکومت کا خاص مقرب اور درباری تھا۔اور معتزلہ کا مانا ہوا بڑابا اثر لیڈ رتھا۔اسی نے مامون الرشید کو اکسایا کہ جو لوگ خلق قرآن کے عقیدہ کو نہیں مانتے اُن پر سختی کی جائے۔الفرق بين الفرق صفحه ۱۰۷ الفرق بين الفرق صفحه ۱۱۰ ✓ طبقات المعتزلة صفحه ۵۴ الفرق بين الفرق صفحه ۷۱۳