تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 300 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 300

تاریخ افکارا سلامی شمامہ کے مندرجہ ذیل خصوصی نظریات تھے۔جولوگ جاہل دیوانے اور مجذوب ہیں اور اللہ تعالی کی معرفت کے اہل نہیں و ہ دوسرے حیوانات کی طرح غیر مکلف ہیں۔اس لئے ایسے جہلاء کا دوسرے حیوانوں کی طرح حشر بھی نہیں ہوگا بلکہ وہ فنا ہو کر نابود ہو جائیں گے۔آئی يَصِيرُونَ كُلُّهُمْ فِي الآخِرَةِ تُرَابًا۔یہی حال ما بالنعمی کی حالت میں مرنے والے بچوں کا ہوگا کیونکہ آخرت تو عمل کرنے والوں کے لئے جزا سزا کا گھر ہے اور جن کا کوئی عمل نہیں ان کا حشر لغو اور بے معنی ہوگا لیے کہتے ہیں کہ ثمامہ ، احمد بن دار داد محمد بن عبد الملک الزَّيَّات تینوں عہد عباسی کے سر بر آوردہ معتزلہ تھے۔انہوں نے عباسی خلیفہ وائق کو اکسایا کہ دو واحمد بن نصر خزامی کو قتل کر دے کیونکہ وہ خلق قرآن کا نظریہ رکھنے والوں کو کافر کہتا ہے اور رویت باری کے نظریہ کا بھی قائل ہے۔واثق نے ان کی ترغیب پر احمد کو قتل کروا دیا۔بعد میں وہ بہت پچھتایا کہ اس سے یہ کیا ظلم ہو گیا ہے کہ اس نے ایک ایسے بزرگ اور نیک انسان کو بلاوجہ مروا دیا ہے اس وجہ سے وہ ان تینوں معتزلہ پر بھی ناراض ہوا لیکن انہوں نے اس کے سامنے قسمیں کھائیں اور اسے یقین دلایا کہ یہ قتل بالکل جائز تھا اور اگر وہ ایسی رائے دینے میں غلط کار ہیں تو انہیں اللہ تعالیٰ فلاں فلاں طریق پر ہلاک کر دے۔ہر ایک نے جو طریق اپنی موت کے لئے تجویز کیا وہ اسی طرح پر ہلاک ہوا۔تمامہ نے دعا کی تھی کہ اگر وہ اس گناہ میں ملوث ہے تو اللہ تعالی اس پر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے جو تلوار سے اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں۔چنانچہ اس کے بعد وہ ایک بہا رکہ گیا وہاں بنوخزاعہ کے لوگوں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے ہمارے بزرگ احمد کو قتل کروایا تھا۔انہوں نے تمامہ کو تلوار کے گھاٹ اتار دیا اور اس کی نعش حرم سے باہر پھینک دی جہاں کتنے اور گدھ اسے کھا گئے۔دوسرے دو کا بھی پر احشر ہوا۔کذا فٹ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهَا حُسْرًا الْجَاحِظِيہ اور اُس کے نظریات یہ فرقہ عمرو بن بحر الجاحظ کا پیر و تھا۔جاحظ بڑا فصیح البیان مقرر، ماہرا دیب اور قابل مصنف مانا جاتا ہے۔یہ عربی النسل اور بنو کنانہ میں سے تھا لیکن علامہ بغدادی کو اس سے اتفاق نہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ اگر جاحظ کا یہ دعویٰ صحیح ہے تو پھر اُس نے ایسی کتابیں کیوں لکھیں جن میں بنو قحطان کی تعریف کی گئی ہے الفرق بين الفرق صفحه ۱۲۷ ✓ الفرق بين الفرق صفحه ۱۲۸