تاریخ افکار اسلامی — Page 293
تاریخ افکا را سلامی ٢٩٣ جبریه و د لوگ ہیں جن کے نزدیک انسان اپنے تمام افعال میں مجبور محض ہے اور و وخدا کے ہاتھ میں کھلونا ہے۔وہ جس طرف چاہے اور جس طرح چاہے اُسے لے جائے۔مرجعه مسلمانوں کا وہ فرقہ ہے جس کا یہ عقیدہ ہے کہ اعمال انسانی ایمان کا جزو نہیں۔ایمان صرف یقین اور اقرار باللسان کا نام ہے۔دوسرے اعمال زائد از ایمان امور ہیں اور نجات سے ان کا کوئی خاص تعلق نہیں۔معتزلہ کے نظریے تمام کے تمام معتزلہ مندرجہ ذیل مسائل میں ایک سانظریہ رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات اُس کی ذات کا عین ہیں اُن کا کوئی الگ وجود نہیں جبکہ دوسری اشیاء کی صفات ان کی ذات سے الگ اپنا علیحد دوجود رکھتی ہیں اور زائد از ذات ہیں نیز اس عینیت کی وضاحت کے لئے یہ کہنا درست ہے کہ لَيْسَ لِلهِ حَيَاةٌ وَلَا عِلْمَ وَ لَا قَدْرَةٌ وَلَا سَمْعُ وَلَا بَصَرٌ وَلَا كَلامٌ وَلَا إِرَادَةً ل رویت باری محال ہے یعنی مادی آنکھوں سے ہم خدا کو نہیں دیکھ سکتے نہ اس دُنیا میں اور نہ اگلے جہاں میں زَعَمَ المُعْتَزِلَة أَنَّ اللهَ لَا يَرَى نَفْسَهُ وَلَا يَرَاهُ غَيْرُهُ - معتزلہ کے نزدیک کلام الہی مخلوق اور حادث ہے۔اسی نظریہ کے تحت یہ قرآن کریم کو بھی حادث اور مخلوق مانتے ہیں۔بعض خلق اور حدوث میں فرق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کلام اللہ اور قرآن کو ہم حادث تو کہہ سکتے ہیں لیکن اسے مخلوق کہنا درست نہیں۔معتزلہ قدریہ کے نزدیک انسان اپنے افعال کا خالق اور ان کے بجالانے میں پوری طرح مختار اور آزاد ہے اور یہ اختیار ہی ثواب وعقاب کی بنیاد ہے ہے وہ مسلمان جو گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں وہ نہ مؤمن ہیں اور نہ کافران کا مقام کین کین ہے۔نیز مرتکب گناہ کبیرہ دائمی جہنمی ہے بشرطیکہ وہ تو بہ نہ کرے۔بعض معتزلہ کے نزدیک خدا تعالی کا جسم ہے لیکن وہ اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ اِنہ جسم کا کالاجسامِ وَإِنَّهُ شَيْءٌ لَا كَالَا شَيَاءِ معتزلہ اگر چہ اپنے زمانہ کے مخالفین اسلام کے مقابلہ میں پیش پیش رہے۔انہوں نے اسلام کی تائید میں علمی الفرق بين الفرق صفحه ۷۹