تاریخ افکار اسلامی — Page 294
تاریخ افکا را سلامی ۲۹۴ ولائل مہیا کرنے کی قابل قدر کوشش کی اور اسلام کے منقلی دفاع میں اپنے زمانہ کے لحاظ سے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے لیکن اپنے بعض مخصوص نظریات کی وجہ سے یہ فرقہ بھی گڑھ مسلمہ میں فکری انتشار اور ذہنی خلفشار کا باعث بنا رہا۔معتزلہ خود با ہمی نظریاتی اختلافات کئی وجہ سے کوئی فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔معتزلہ کے بڑے بڑے فرقے جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے بنیاد کے لحاظ سے ان کے تین بڑے فرقے تھے۔معتزله قدريه، معتزله جبریه، معتزله مرجئه چونکہ اکثریت قدریہ کی ہے اس لئے بالعموم قدریہ کو ہی معتزلہ سمجھا جاتا ہے۔معتزلہ قدریہ کے مندرجہ ذیل ضمنی فرقے تھے۔الْوَاصِلِيَّه، العُمْرَوِيَّه، الهُذَلِيَّه النِّظَامِيَّه، المُرْدَارِيَّهِ، الْمَعْمَرِيَّه، الشَّحَامِيَّه الْجَاحِظِيهِ، الْخَابِطِيَّه، الحِمَارِيَّه، الحَيَاطِيَّه، الشَّخْلَمِيَّه، الصَّالِحِيَّه، المَرِيسِيَّه، الْكَعْبِيَّه، الجَبَائِيَّة، الْبَهشَمِيَّه ان میں سے بعض اہم فرقوں کی تفصیل آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہے۔معتزلہ قدریہ کے ضمنی فرقوں کی تفصیل ا الْوَاصِلِیہ اور اُس کے نظریات یہ فرقہ واصل بن عطا معتزلی کا پیرو ہے۔کہا جاتا ہے کہ اصل پہلا شخص ہے جسے معتزلی کیا گیا۔اس کی وجہ یہ ہوئی کہ پہلے واصل حضرت حسن بصری کا شاگر داوران کے حلقہ درس کا طالب علم تھا لیکن اس نے بعض ایسے خیالات کا اظہار شروع کر دیا جن سے حضرت حسن بصری متفق نہ تھے۔آخر اس اختلاف نے شدت اختیار کرلی اور حضرت حسن بصری نے اُسے اپنے حلقہ درس میں بیٹھنے سے منع کر دیا چنانچہ اُس نے ضد میں آکر اُسی مسجد کے ایک کو نہ میں اپنا الگ حلقہ درس بنالیا۔اس پر حسن بصری نے فرمایا اعْتَزَلَ عَنا یعنی اُس نے ہم سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔یہاں سے اس کا نام معتزلی لینی الگ ہو جانے والا مشہور ہو گیا۔