تاریخ افکار اسلامی — Page 292
تاریخ افکارا سلامی rar معتزلہ اور ان کے فرقے معتزلہ فرقہ کب اور کیسے وجود میں آیا اور اسلامی تاریخ میں اس کا کیا کردار رہا ہے؟ اس کا مختصر بیان یوں ہے کہ شروع میں یہ ایک خالص علمی گروہ تھا اور سیاسی خلفشار سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا کیونکہ شیعہ اور خوارج کی طرح اقتدار پر قبضہ کرنا اس کے مقاصد میں شامل نہ تھا اور نہ اس کے لئے اُس نے کبھی کوئی منظم عملی کوشش کی۔دراصل ابتدائی معتزلہ وہ لوگ تھے جو پہلے حضرت علی کے حامی تھے لیکن جب حضرت علی شہید ہو گئے اور اقتدار بنوامیہ کے قبضہ میں چلا گیا تو یہ لوگ سیاسی سرگرمیوں سے الگ ہو گئے چونکہ یہ لوگ علمی ذہن رکھتے تھے اور اُس زمانہ میں مخالف اسلام مختلف مذاہب کے پیروؤں نے اسلام کے خلاف علمی اعتراضات پھیلانے کی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا اس لئے یہ لوگ زاد یہ نشین ہو کر عقلی علوم اور دین کے علمی پہلوؤں کے فروغ کی طرف متوجہ ہوئے اورا سلام پر کئے جانے والے اعتراضات کے علمی جواب میں مصروف ہو گئے۔اس طرح ، طرح طرح کی خیال آرائیاں اُن کی جولان گاہ بن گئیں۔اسی زاویہ گزینی اور سیاسی سرگرمیوں سے علیحدہ ہو جانے کی وجہ سے ان کا نام "معتزلہ مشہور ہو گیا یعنی یہ وہ گوشہ نشین لوگ ہیں جن کا دنیاوی سرگرمیوں سے کوئی سروکار نہ تھا صرف علم کا فروغ اور مسائل کلامیہ سے دلچسپی ان کی سرگرمیوں کے مرکز بن گئے تھے۔ان لوگوں کے نام کی شہرت زیا دہ تر اس وقت ہوئی جبکہ واصل بن عطاء معتزلی حسن بصری کے درس سے الگ ہوا او را پنا حلقہ درس قائم کیا۔زیادہ تر معتزلہ قدریہ تھے یعنی اس بات کے قائل تھے کہ انسان اپنے اعمال میں خود مختار اور آزاد ہے وہ جس طرح چاہے کوئی سا طرز عمل اختیار کرے اُسے اختیار ہے تا ہم جبرية اور مرجئہ اپنے مرکزی طرز فکر کی وجہ سے معتزلہ کا ہی حصہ شمار ہوتے ہیں۔بعض کا خیال ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت علی کے زمانہ میں جو فتنے اٹھے ان سے الگ تھلگ رہنے والے صحابہ مثلاً سعد بن ابی وقاص، زید بن ثابت ، عبد اللہ بن عمر و غیر هم معتزلہ کے آباء ہیں۔ے اسی زمانہ میں سیاسی حالات اور اقتصادی لوٹ کھسوٹ سے بددل ہو کر ایک اور گروہ بھی سامنے آیا جس نے زہد، خلوت گزینی اور عبادت کو اپنا دستور زندگی بنایا اور کچھ عرصہ بعد ڈھاد اور صوفیاء کے نام سے مشہور ہوا۔