تاریخ افکار اسلامی — Page 239
تاریخ افکا را سلامی ۳۳۹ چلتے چلتے دوسری طرف جا کر چھپ جاتا جسے قلعہ سے دور کے پہاڑی لوگ سمجھتے کہ چاند ہے جو ان کے اللہ کے تصرف میں ہے۔بعض اوقات رات کے وقت قلعہ کے اندر روشنیاں بھی پھوٹتیں جن کے بارہ میں اس نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ یہ اس کے جلال اور نور کا ظہور ہے۔بہر حال اردگرد کے علاقوں کے ان پڑھ لیکن بہا در او رفدائی قسم کے لوگ اس کی ان شعبدہ بازیوں کی وجہ سے اس کے گرویدہ ہو گئے۔وہ سب اس پر فدا ہونے کے لئے ہر وقت تیار رہتے۔یہ کو یا کچھ عرصہ بعدا اٹھنے والی حسن بن صباح کی دہشت پسند تحریک کا مقدمة الجیش تھا۔المقنع کی تحریک کو ختم کرنے کے لئے کئی لشکر بھیجے گئے۔پہاڑی علاقہ تھا اور قلعوں کی وجہ سے متع کا دفاع بڑا مضبوط تھا۔بہر حال ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر سعید بن عمر د اس کا مقابلہ کرنے کے لئے وہاں پہنچا۔سعید نے المتقع کے قلعہ کی دیوار پر چڑھنے کے لئے لوہے اور لکڑی کی دوسو سیڑھیاں بنوائیں اور قلعہ کے ارد گرد کھودی گئی خندق کو پاٹنے کے لئے اُس نے ملتان کے علاقہ سے دس ہزار بھینسوں کی کھائیں منگوا ئیں جنہیں ریت سے بھر کر خندق میں پھینکوایا گیا تا کہ اُن کے اوپر سے فو جیں گزرسکیں۔غرض چودہ سال کی مسلسل اور شدید جنگ کے بعد المتقع کے زور کو توڑا جا سکا۔المقنع نے جب دیکھا کہ اب اس کا بچنا مشکل ہے تو وہ اپنے تیار کردہ ایک تیزابی محلول کے حوض میں ڈوب مرا جس میں اُس کا جسم تحلیل ہو کرنا بو د ہو گیا۔جب مسلمان فو جیں قلعہ میں داخل ہوئیں تو المتقع کا وہاں نام ونشان بھی نہ تھا۔اس کے اس طرح غائب ہو جانے کو اُس کے متبعین نے اس کا معجزہ سمجھا اور وہ یہ ماننے لگے کہ المتقع آسمان پر چڑھ گیا ہے۔شکست کے بعد اس کے حامیوں میں سے تمہیں ہزار نے امان طلب کی اور باقی ہزاروں مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے۔المتقع کا دعوی تھا کہ و وایسا الہ ہے جو آدم اور دوسرے انبیاء میں منتقل ہوتے ہوئے اب ابو مسلم خراسانی کے میں آیا اور اب اس کی شکل میں دنیا پر جلوہ گر ہوا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ إِنَّمَا الْتَقِلُ فِي الصُّورِ الْمُخْتَلِفَةِ لَانَّ عِبَادِى لَا يُطِيقُونَ رُؤْيَتِى وَمَنْ رَآنِي احْتَرَقَ بِنُورِی کہ میں مختلف صورتوں میں منتقل ہوتا رہا ہوں تا کہ لوگ مجھے دیکھ سکیں کیونکہ میرے بندے یہ طاقت نہیں رکھتے کہ وہ میری حقیقی شکل میں مجھے دیکھ سکیں۔اگر کوئی میرا جلوہ دیکھ لے تو میرے نور کی وجہ سے جل جائے۔ادْعُوا حُلُوَلَ الْإِلَهِ فِي أَبِي مُسلم (فرق الشيعة صفحه ۴۷)