تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 238 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 238

تاریخ افکارا سلامی PPA بعض علاقوں میں بغاوت اٹھ کھڑی ہوئی۔انہی بغاوتوں میں سے ایک بغاوت سنباؤ کی تھی جو منصور کے مقابلہ میں آیا لیکن بری طرح شکست کھائی۔اس لڑائی میں سنباؤ کے قریباً ساٹھ ستر ہزار حامی مارے گئے اور چودہ ہزار قید ہوئے جن کی بعد میں گردنیں اڑا دی گئیں لے لیکن یہ شورش اندر ہی اندر چلتی رہی۔الرَّزَامِيه چنا نچہ ابو جعفر منصور کے بعد مہدی کے عہد خلافت یعنی ۱۵۸ھ کے قریب الرزامیہ کی شورش اٹھی جور زام نامی ایک زندیق کے پیرو تھے اور ابو مسلم خراسانی سے شدید محبت کا اظہار کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ جب حق الہی یعنی امامت محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس کو ملی تو ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے ابراہیم الامام کو عطا ہوئی۔پھر اُن کے بھائی ابوالعباس عبدالله السفاح کی طرف منتقل ہوئی اور السفاح کے بعد ابومسلم خراسانی اس کے وارث بنے۔المُقنعیه فرقه ای الرزامیہ کی ہی شاخ ہے جن کا لیڈر اُس زمانہ کے لحاظ سے ایک ماہر کیمیا دان اور شعبدہ باز ہاشم سے بن حکیم المروزی تھا جو المتقع کے لقب سے مشہور ہے۔یہ شخص اس بات کا مدعی تھا کہ الہ نے اُس میں حلول کیا ہے اس لئے وہ خدائی طاقتوں کا مالک اور عالم الغیب ہے۔وہ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے۔خراسانی ترکستان کے پہاڑی علاقوں میں اس نے چند مضبوط قلعے بنائے اور اس کے شعبدوں کے طفیل ہزاروں پہاڑی لوگ جن میں خلیبی ترک بھی شامل تھے اس کے مرید بن گئے۔اس نے قتل وغارت اور چھاپے مار جنگ کی وجہ سے اردگرد کے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی تھی۔کہا جاتا ہے کہ المتقع جس قد روبین، ہوشیار، کیمیا دان اور شعبدہ باز تھا اس قدر بد شکل اور کر یہ المنظر بھی تھا۔چیچک کے داغوں کی وجہ سے اس کا چہرہ بڑا خوفناک اور بھیا تک بن گیا تھا۔اس نے اپنے اس عیب کو چھپانے کے لئے ایک ریشمی نقاب تیار کیا جسے وہ پبلک کے سامنے آتے وقت اپنے چہرہ پر ڈالے رکھتا اور کہتا کہ میں اپنا چہرہ اس لئے نگا نہیں کرتا کہ کہیں لوگ میرے نور او رجلال سے جل بھن نہ جائیں۔اُس نے اپنے پہاڑی قلعہ پر ایسا انتظام بھی کیا تھا کہ چاند کی شکل کا ایک شعلہ پہاڑی قلعہ کی ایک طرف سے اُٹھتا اور آہستہ آہستہ ↓ الاسلام والحضارة العربية جلد ۲ صفحه ۴۳۲۰۳۲۱ کے الاسلام والدولة العربية جلد ۲ صفحه ۶۴، ۶۵ والاصح ان اسمه عطاء بن حكيم الفرق بين الفرق صفحه ۱۹۵ حاشیه