تاریخ افکار اسلامی — Page 240
تاریخ افکا را سلامی M+ اُس نے اپنے پیرووں کو ہر قسم کی آزادی دے رکھی تھی۔وہ کہا کرتا تھا کہ میری اطاعت کے بعد نہ کسی نماز روزہ کی ضرورت ہے اور نہ محرمات سے بیچنے کی۔اس کے پیر د اباق اور خلجی ترک تھے۔یہ لوگ اپنی آبادیوں میں مسجدیں بناتے۔ان میں مؤذن رکھتے جو وقت پر اذان دیتے لیکن نماز پڑھنے کوئی نہ آنا اوراگر کوئی غیر مقعی ان کی بستیوں میں آجاتا اور مؤذن اس کو نہ دیکھ پا تا یعنی اذان کا وقت نہ ہوتا تو وہ اسے قتل کر دیتے ملے الخرميه ۲۰۱ ھ میں جبکہ المعتصم عباسی خلیفہ تھا خراسان کے علاقہ آذربیجان اور طبرستان میں ایک اور بغاوت اُٹھی۔اس بغاوت کا قائد بابک خرمی تھا وہ بڑے بھاری لشکر کے ساتھ مقابلہ کے لئے آیا۔خلیفہ المعصم نے اُس سے لڑنے کے لئے متعد د لشکر بھیجے۔ہزاروں لوگ مارے گئے لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔عباسی لشکر شکست کھا کر پسپا ہوتے رہے۔یہ لڑائیاں قریباً ہمیں سال تک جاری رہیں آخر عباسی حکومت کے قابل جرنیلوں افشین محمد بن یوسف التفری او را بو دلف العجلی کی متحدہ کوششوں سے بڑے خون ریز معرکوں کے بعد ۲۲۳ھ میں کامیابی حاصل ہوئی۔بابک خرمی اور اس کا بھائی اسحاق پکڑے گئے اور بنو عباس کی مشہور چھاونی سُرَّ مَنْ رَأی میں دونوں کو پھانسی دے دی گئی۔بابک خرمی کے ماننے والے خرمیہ کہلاتے تھے۔مجوسیوں کی طرح بہت سی محرمات کی اباحت کے قائل تھے۔مثلاً بہنوں اور پوتیوں سے نکاح جائز سمجھتے تھے۔۔اسی طرح بیویوں کے تبادلہ کے بھی قائل تھے۔معتصم کا فوجی جرنیل افشین بھی فرمی تحریک سے متاثر تھا اور اسی کے تسامح کی وجہ سے جنگ نے اتنا طول کھینچا تھا۔چنانچہ شکایت ہونے پر جب تحقیق کی گئی تو حقیقت کا پتہ چلا اور اس الزام میں المعصم نے افشین کو قتل کرا دیا۔سے البرامکہ اور باطنی تحریک کہا جاتا ہے کہ البرامکہ بھی باطنی تحریک کی طرف مائل اور مجوسی نظریات سے متاثر تھے۔انہوں نے الفرق بين الفرق صفحه ۱۹۶۰۱۹۵ - فرق الشيعة صفحه ۴۷ قدیم مصری اور سیریا نیز با بلی اور قدیم ایرانی تہذیب میں تحفظ نسل و خاندان کی خاطر بہن بھائی کی شادی کو عیب نہیں سمجھا جاتا تھا ( ہسٹری آف سیریا ( تاریخ شام) آف فلپ ہٹی۔ترجمہ بنام تا ریخ شام صفحه ۳۰۳) فرق الشيعة صفحه ۴۷ حاشيه الفرق بين الفرق صفحه ۱۹۵