تاریخ افکار اسلامی — Page 208
تاریخ افکا را سلامی PA حضرت علی کے بارہ میں وصیت کی جو روایات ہیں ان میں سے ایک روایت یوں ہے کہ جب آیت کریمہ وَ انْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ اتری تو آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کو ( جن کی - عمر اس وقت دس سال کے قریب تھی ) بلا کر کہا کہ میں اپنے رشتہ داروں کی دعوت کرنا چاہتا ہوں اس کا انتظام کرو اور اس کے لئے بنو عبد المطلب کو بلاؤ۔چنانچہ جب وہ سب آگئے تو کھانا پیش کیا گیا جب سب کھا چکے تو آپ نے تبلیغ شروع کی اور فرمایا کہ میں ایک بہترین پیغام لایا ہوں اسے قبول کرو اور میری مدد کرو۔جو سبقت کرے گاوہ میرا بھائی میرا وصی اور خلیفہ ہوگا۔سب نے انکار کیا صرف علی نے کہا کہ میں قبول کرتا ہوں۔اس پر آپ نے علی کو گردن سے پکڑا اور کہا یہ میرا بھائی میرا وصی اور خلیفہ ہوگا۔، اس پر لوگ ہنستے ہوئے اُٹھ کر چلے گئے۔یہ روایت متعد والفاظ میں مختصر اور تفصیلاً مختلف کتب میں آئی ہے۔اس وقت میرے سامنے تاریخ طبری ہے جس کے صفحہ ۲۱۶ جلد ۲ پر یہ حدیث مفصل درج ہے لیکن اس کے راویوں میں کوئی ضعیف ہے تو کوئی کذاب مثلاً اس روایت کا پانچواں راوی المنهال بن عمرو ہے جس کو اسماء الرجال کے بعض ماہرین نے ضعیف قرار دیا ہے۔اسے مبیء المذهب کہا ہے۔ابن حزم نے بھی اس پر اعتراض کئے ہیں۔کہا گیا ہے کہ یہ دو درہموں کے لئے بھی گواہی دے تو قبول نہ کرو۔پھر یہ عبداللہ بن الحارث سے یہ حدیث روایات کرتا ہے حالانکہ براہ راست اس نے یہ حدیث عبد اللہ سے نہیں سنی اور درمیان میں رادی رہ گیا ہے۔بعض روایات میں سعید بن بخجیر کا ذکر آتا ہے۔بہر حال یہ روایت منقطع ہے۔اس کا چوتھا رادی عبد الغفار بن القاسم ہے۔علامہ ذہبی کہتے ہیں کہ یہ غیر ثقہ اور رافضی ہے۔علی مدینی کہتے ہیں کہ یہ حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔یحیی بن معین کہتے ہیں کیس بِشَيْءٍ یہ بے حیثیت انسان ہے۔امام بخاری کہتے ہیں اہل حدیث اسے قومی نہیں مانتے۔ابو داؤد کہتے ہیں یہ کذاب ہے۔النسائی کہتے ہیں یہ متروک الحد بیث ہے۔ابن حبان کہتے ہیں۔یہ شراب پیا کرتا تھا۔احادیث کو الٹ پلٹ کر دیا کرتا تھا۔لا يَجُوزُ الاحْتِجَاجُ به اس کو بطور سند قبول نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح باقی راویوں میں سے کسی پر کذاب ہونے کا الزام لگا ہے اور کسی کو ضعیف اور متروک الحدیث قرار دیا گیا ہے۔غرض وصیت سے الشعراء: ۲۱۵