تاریخ افکار اسلامی — Page 207
تاریخ افکا را سلامی ۲۰۷ مانتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کا نام لے کر کوئی وصیت نہیں کی تھی بلکہ اپنے بعد بننے والے خلیفہ کے اوصاف بیان کئے تھے جو حضرت علی پر منطبق ہوتے تھے۔حضرت امام حسن نے اپنی خلافت کے بارہ میں جو خط و کتابت امیر معاویہ سے کی اس میں بھی وصیت کی دلیل کا کوئی ذکر نہیں بلکہ امیر معاویہ نے جب آپ کو یہ پیشکش کی کہ اگر آپ میرے حق میں دست بردار ہو جائیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کو اپنا ولی عہد مقرر کر دوں گا اس پر آپ نے فرمایا :۔إِنَّهُ لَيْسَ لِمَعَاوِيَةَ أَنْ يُعَهْدَ لَاحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْ يَكُونَ الْأمْرُ شُورَى وَ فِي رَوَايَةٍ كتب أَن يَكُونَ الْأَمْرُ شُوْرَى بَعْدَ مَوْتِ مَعَاوِيَةَ تحکیم کی تجویز کو قبول کرنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علی بطور وصی حق خلافت کے دعویدار نہ تھے ورنہ تحکیم کی تجویز بے معنی ہوتی۔کم از کم تحکیم کے سلسلہ میں جو حکم نامہ لکھا گیا تھا اُس میں وصیت کی دلیل کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔وصیت کے نظریہ کے متعلق یہی رویہ حضرت امام حسین، حضرت امام زیڈ اور حضرت امام محمد بن الحنفیہ کا بھی تھا۔ان میں سے ہر ایک نے (حسب بیان تاریخ) خلافت کے حقدار ہونے کا دعوی کیا اور قرابت داری کی دلیل پیش کی لیکن کسی نے بھی وصیت کی دلیل کو پیش نہیں کیا حالانکہ اگر حضرت علی اور آپ کی اولاد کے بارہ میں وصیت ہوتی تو دعوی خلافت کے لئے وصیت کا واقعہ سب سے بڑی دلیل کی حیثیت رکھتا تھا۔پھر وصیت کے معین الفاظ بھی کسی معتبر تاریخ یا کسی مستند متفق علیہ حدیث میں محفو نا نہیں ہیں جن سے قطعی طور پر یہ ثا بت ہو کہ آنحضرت ما نے حضرت علی کو اپنا جانشین اور خلیفہ نامز دفرمایا تھا۔غدیر خم والا واقعہ اگر غور کیا جائے اور دوسرے H واقعات کو مد نظر رکھا جائے تو اس سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ چند ایک منافقوں نے حضرت علی کے بارہ نازیبا رویہ اختیار کیا تھا جیسا کہ خاندان نبوت یا جس کو اللہ تعالیٰ نے قیادت کا شرف بخشا ہو اس کے بارہ میں منافقین کا بالعموم طرزعمل ہوا کرتا ہے جس سے اکثریت کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔آنحضرت ﷺ نے اس نا واجب نکتہ چینی کا ازالہ فرمایا ، باقی سارا افسانہ ہے۔زوائد حاشیے ہیں جو بہت بعد کی پیداوار ہیں اور وضع حدیث کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔على وبنوه لطه حسین مصری صفحه ۱۴۲۰۸۳۰۷۶۰۶۸۰۶۵، ۱۷۷ ۱۸۵،۱۸۳،۱۷۸ بحواله بلاذری، طبری ، مقاتل الطالبين