تاریخ افکار اسلامی — Page 209
تاریخ افکا را سلامی متعلق تمام روایات کی اگر چھان بین کی جائے تو کوئی بھی روایت ایسی نہیں ملے گی جس کی سند کے سارے راوی ثقہ اور مقبول الحدیث ہوں۔ایسے ہی راوی ملیں گے جن میں سے کوئی ضعیف ہے، کوئی متروک الحدیث ہے اور کوئی کذاب ہے۔یا در ہے کہ ابن حمد بر طبری تیسری صدی کے ایک مؤرخ ہیں اور جیسا کہ اس زمانہ میں رواج تھا کہ ہر رطب و یابس جو ٹنا تاریخ میں درج کر دیا جاتا تھا۔یہ ناقدین کا کام ہے کہ وہ صحیح اور غلط کی چھان بین کریں اور درست او ر ما درست میں امتیاز کی راہیں نکالیں۔خود شیعہ مصادر میں یہ روایت موجود ہے کہ آنحضرت ﷺ کا کوئی صریح اور مستند ارشاد موجود نہیں جس کا تعلق حضرت علی کے حق میں وصیت سے ہو۔چنانچہ ایک شیعہ مؤرخ لکھتے ہیں۔قَالَ صَاحِبُ كِتَاب الْمَهْدِيَّةُ فِي الْإِسْلَام لَمَّا كَانَ الرَّسُولُ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ قَدْ لَحِقَ بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى دُونَ أَن يُدلي برأى صَرِيحِ يَنْقَلَهُ إِلَيْنَا مَصْدَرٌ مُوَلَّقٌ بِهِ ( فِي أَمْرِ النِّيَابَةِ وَالْخِلَافَةِ ) فَقَدْ تشعبت الآراء وتباينت الاهواء یعنی آنحضرت ﷺ نے وفات سے پہلے خلافت اور نیابت وَتَبَايَنَتِ کے بارہ میں کسی رائے کا اظہار نہیں کیا تھا۔کوئی مستند قابل اعتبار روایت کسی ایسی رائے کے اظہار کے بارہ میں موجود نہیں ہے۔نهج البلاغه ایک بے سند مجموعہ ہے جو دوسری صدی کے آخر میں ترتیب کے مراحل سے گزرا۔یہی حال اُن کتابوں کا ہے جو الوصیت یا اثبات الوصیت کے نام سے فروغ پائیں جن کے ذریعہ ایک یہودی نژاد منافق کے تصور کو پروان چڑھایا گیا۔دراصل فتنہ کے دور میں بنو امیہ کے مقابل میں اس دور کا آغا ز ہوا۔پھر اتنی روایات گھڑی گئیں کہ حضرت امام شافعی کو مجبو ر یہ کہنا پڑا کہ مَا رَأَيْتُ فِي أَهْلِ الْأَهْوَاءِ قَوْمًا أَشَدَّ بِالزُّوْرِ مِنَ الرَّافِضَةِ وَضَعُوا فِي فَضَائِل عَلِيَّ وَاَهْلِهِ أَلَافَ الْأَحَادِيثِ " حالانکہ امام شافعی محب اہل بیت نبوی میں مشہور تھے اور آپ نے اس سلسلہ میں مشکلات اور اعتراضات کا سامنا بھی کیا۔تاريخ الفرق الاسلامية صفحه اا الامام الشافعی صفحه ۲۱۳