تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 174 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 174

تاریخ افکا را سلامی وحشت اور بر بریت علی حالیہ موجود تھی۔یہ لوگ صرف نام کے مسلمان تھے۔تمام عادات اور رسم و رواج ابھی کافرانہ تھے اور اپنے آپ کو چنگیز خاں کے قانون ساسا کے تابع سمجھتے تھے۔بہر حال جب وقد غاز ان کے سامنے حاضر ہوا تو آپ نے وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے غازان سے کہا۔آپ کا دعوی ہے کہ آپ مسلمان ہیں۔آپ کے لشکر میں قاضی، شیخ اور مؤذن کبھی ہیں لیکن اسلام کے آثار نہیں۔آپ کے آبا و اجداد کا فر تھے لیکن عہد کے پکے تھے۔آپ مسلمان ہو کر اُس عہد کو توڑ رہے ہیں جو آپ نے اس علاقہ کے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا۔بات چیت کے بعد جب وفد کے سامنے کھانا چنا گیا تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا۔غازان نے پوچھا کھانا نہ کھانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے کہا میں وہ کھانا کیسے کھا سکتا ہوں جو لوگوں کا مال لوٹ کر تیار کیا گیا ہے۔لوگوں کے درخت کاٹ کر پکایا گیا ہے غرض اسی طرح آپ نے بہت کچھ کہا اور ایسی فصیح و بلیغ تقریر کی کہ غازان آپ کی تکریم کرنے اور آپ کی بات ماننے پر مجبور ہو گیا۔آپ کا فوری مقصد یہ تھا کہ غازان فی الحال دمشق پر حملہ نہ کرے اور قیدی رہا کر دے۔غازان نے آپ کے دونوں مطالبے مان لئے لیکن کہا مسلمان قیدی تو میں رہا کر دیتا ہوں لیکن عیسائی اور یہودی قیدی نہیں چھوڑوں گا لیکن آپ نے کہا واپس جاؤں گا تو سبھی کے ساتھ جاؤں گا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ذمہ کے بارہ میں فرمایا ہے لَهُمْ مَا لَنَا وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْنَا۔آخر غازان نے آپ کا یہ مطالبہ بھی مان لیا اور وفد کامیاب و کامران واپس دمشق آ گیا۔اہل دمشق کو برابر یہ اطلاعیں مل رہی تھیں کہ تاتاری لشکر تاڑ میں ہے۔موقع ملنے پر ضرور دمشق پر حملہ کرے گا۔اس لئے امام ابن تیمیہ لوگوں کو جہاد کے لئے برابر تیار کرتے رہے۔ضروریات جہاد کا جائزہ لیا گیا ادھر دمشق کے لوگوں نے امام ابن تیمیہ پر زور دیا کہ وہ مصر جائیں اور وہاں کے امیر الناصر کو شام کی مددکرنے پر آمادہ کریں۔چنانچہ امام صاحب کی سفارت کامیاب رہی اور ایک بھاری لشکر کے ساتھ شام کی طرف کوچ کیا۔تاتاری لشکر نے اس دفعہ حملہ نہ کیا لیکن ۷۰۲ ھ میں پوری تیاری کے ساتھ حملہ آور ہوا۔! دھر شام اور مصر کا لشکر بھی پوری طرح تیار تھا۔دمشق کے علماء اور امراء نے تخت یا تختہ کے حلف اٹھائے عوام کے حوصلے بڑھائے۔امام ابن تیمیہ نے علماء کی قیادت کی اور بذات خود لڑائی میں عملی