تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 173 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 173

تاریخ افکا را سلامی اس تیسری صورت کو منظور کر لیا لیکن آپ زیادہ عرصہ قید خانہ میں نہ رہے۔اپنے عقیدت مندوں کی وجہ سے جلد باہر آگئے اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہو گیا اور لوگ پہلے سے بھی زیادہ آپ کے گرویدہ ہو گئے۔اس دوران کئی ابتلا بھی آئے جنہیں آپ نے صبر وشکر کے ساتھ پر داشت کیا۔الناصر نے ارادہ کیا کہ جن علماء نے آپ کو تکلیف دی ہے اور ایک لمبا عرصہ قید میں رہنے پر مجبور کیا ہے ان کو سزادی جائے لیکن آپ نے کہا ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔میں نے ان سب کو معاف کر دیا ہے۔چنانچہ الناصر نے آپ کی بات مان لی لے علماء تو خاموش ہو گئے لیکن صوفیاء کا شور کم نہ ہوا انہوں نے پبلک کو اُکسایا اور بعض جاہلوں نے آپ پر حملہ کیا اور آپ کی توہین کی۔آپ کے حامی سخت مشتعل ہو گئے اور انتقام لینے کا عزم کیا لیکن آپ نے بڑی سختی سے ان کو منع کیا اور فرمایا اگر تم میرے لئے انتظام لینا چاہتے ہو تو میں نے تو ان کو معاف کر دیا ہے اور اگر اپنے لئے انتقام لیتے ہوا اور میری کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں تو پھر جو مرضی ہے کرو اور اگر خدا کے لئے انتقام لیتے ہو تو اللہ تعالیٰ اپنا حق لینے پر آپ ہی قادر ہے تمہاری مدد کی اُسے ضرورت نہیں۔غرض لوگوں کو بڑی سختی سے آپ نے روکا اور کسی قسم کا فساد نہ ہونے دیات۔امام ابن تیمیہ اور جہاد بالسیف امام بن تیمیہ عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ مرد میدان بھی تھے آپ نے تاتاریوں کے خلاف جہاد میں مؤثر حصہ لیا۔۶۹۹ ھ کے قریب دمشق کو نا ناریوں کے حملے کا بڑا خطرہ تھا بعض علماء تو مصر کی طرف بھاگ گئے لیکن امام ابن تیمیہ نے وعظ و تلقین کے ذریعہ لوگوں کے حوصلے بڑھائے۔انہیں جرات کے ساتھ حملہ کا مقابلہ کرنے پر اکسایا۔دوسری طرف آپ شہر کے عمائدین کا وفد لے کرنا ناری سالا رغاز ان کے پاس گئے۔غازان نے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن تا تاری لے آپ نے الناصر کو کہا اذا قتلت هولاء لا تجد بعدهم مثلهم ان میں مالکی قاضی ابن مخلوف بھی تھا جو آپ کی مخالفت میں سب سے آگے تھا اور آپ کو قتل کرانا چاہتا تھا اس نے جب امام صاحب کا یہ خلق دیکھا تو بے اختیار کہہ اٹھا مار اینا مثل ابن تیمیه حارضًا عليه فلم نقدر وقدر علينا فصفح وحاج عنا - (محاضرات صفحه ۴۶۱) محاضرات صفحه ۴۶۲