تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 175 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 175

تاریخ افکار را سلامی ۱۷۵ حصہ لیا آخر یہ متحدہ طاقت تاتاریوں کے ساتھ پوری قوت سے ٹکرائی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تا تاری لشکر کو شکست فاش دی اور پہلی دفعہ لوگوں کے دلوں سے یہ ڈرنکالا کہ تاتاری لشکر نا قابل ور پہلی وعدہ کشکست بلا ہے لے دمشق کے قریبی پہاڑوں میں ایک اور مسلمان دشمن طاقت بھی تھی۔حسن بن صباح کے بقیۃ السیف۔یہ لوگ نام کے مسلمان تھے۔الحشاشین یا جہالہ کے نام سے مشہور تشیع اور تصوف کا ملغوبہ تھے۔پہلے صلیبیوں کی انہوں نے مدد کی تھی اور اب تاتاریوں کے جاسوس بنے ہوئے تھے وہ موقع ملنے پر مسلمان دیہات پر حملہ آور بھی ہوتے، لوٹ مار کرتے اور پھر پہاڑوں میں جا چھپتے۔قبرص کے عیسائیوں کے ساتھ ان کا گٹھ جوڑ تھا خفیہ حملہ کر کے مسلمانوں کا اسلحہ اور ان کے گھوڑے ان کی عورتیں اور ان کے بچے پکڑ لیتے اور قبرص کے عیسائیوں کے پاس بیچ دیتے۔اس اندرونی دشمن کا قلع قمع بھی ضروری تھا۔چنانچہ امام ابن تیمیہ نے الناصر کی اجازت سے الحشاشین پر حملہ کیا اور ان کی طاقت کو پوری طرح کچل دیا۔آپ نے وہاں کے پہاڑی جنگل بھی کٹوا دیے جہاں یہ لوگ چھپ جایا کرتے تھے ہے یہ زمانہ مسلمانوں کے مصائب کی انتہا کا زمانہ تھا۔اندلس میں مسلمانوں کی حکومت آخری دوں پر تھی۔مشرق میں تاتاری غالب آگئے تھے۔مصر، شام اور فلسطین ابھی صلیبیوں کے تباہ کن تھی۔حملوں سے سنبھل نہ پائے تھے۔مسلمانوں کا اندرونی انتشار بھی انتہا کو پہنچا ہوا تھا مختلف فرقوں کے با ہمی تعصب نے بڑی خطرناک صورت اختیار کر لی تھی۔اس درد ناک حالت کے کئی مؤرخوں نے مرثیے لکھے ہیں۔چنانچہ ابن الاثیر ایک نثری مرثیہ میں لکھتے ہیں کہ کاش مجھے ماں نہ جنتی یا انت مسلمہ کے یہ دردناک حالات لکھنے کے لئے میں زندہ نہ ہوتا۔ایک مؤرخ کی حیثیت سے مجھے یہ دردناک قصہ لکھنا پڑ رہا ہے ورنہ میرا دل خون کے آنسو بہا رہا ہے۔محاضرات صفحه ۴۸۰ محاضرات صفحه ۴۸۱ يقول ابن الاثير ليتامى لم تلدنى ليت من قبل هذا و كنت نسيا منسيا۔فمن ذا الذي يسهل عليه ان يكتب نعى الاسلام والمسلمين و من ذا الذي يهون عليه ذکر ذالک۔۔۔۔۔فلو قال قائل ان العالم مذخلق الله سبحانه و تعالى آدم الى الان لم يبتلوا بمثلها لكان صادقاً۔(محاضرات صفحه ۱۳۸۵ ۳۸۷)