تاریخ افکار اسلامی — Page 142
تاریخ افکار را سلامی خلفاء کی طرف سے نذرانے قبول کرنے کے مسلک میں امام شافعی کا نظریہ بھی یہی تھا کو ذوی القربیٰ میں ہونے کی وجہ سے آپ بیت المال کے اس شعبہ سے مد دلینا زیادہ پسند کرتے تھے۔اس کے بالمقابل امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن جنبل" کا نظریہ یہ تھا کہ ان خلفاء اور حکام کی طرف سے پیش کیا گیا کسی قسم کا نذرانہ قبول نہ کیا جائے کیونکہ ان کے ساتھ بعض اوقات نا مناسب اغراض وابستہ ہوتی ہیں۔امام ابو حنیفہ کو تو اس قسم کے نذرانوں کی ضرورت بھی نہ تھی۔آپ کی بڑی وسیع تجارت تھی جس سے آپ کو ہزاروں کی آمدن تھی لیکن امام احمد کا گزارا بڑا معمولی تھا۔کچھ جائیداد کا کرایہ آنا تھا اُسی سے گزا را چلاتے تھے اور ضرورت پڑنے پر مزدوری بھی کر لیتے تھے۔فصل کٹنے کے زمانہ میں باہر کھیتوں میں جا کر گرے پڑے سلے اور بالیں بھی چن لاتے تھے کیونکہ یہ ہمیشہ سے مباح اور غربا ء کا حق کبھی گئی ہیں۔اس سب کچھ کے با وجود آپ اس بات کے کبھی روادار نہ ہوئے کہ خلفاء کی طرف سے آئے ہوئے نذرانے اور تحائف قبول کریں لیے امام مالک اور حکومت امام مالک نے بنو امیہ اور بنو عباس دونوں کا زمانہ عروج دیکھا۔کے دونوں استبدادی حکومتیں تھیں۔آپ چونکہ ایک لمبا عرصہ بنو امیہ کی حکومت میں رہے تھے اور حضرت عمر بن عبد العزیزہ سے تو آپ کو خاص عقیدت تھی۔پھر حضرت عثمان کے ساتھ جو زیا دتی ہوئی اور آپ کے خلاف جو بغاوت منظم کی گئی وہ سراسر زیا دتی تھی اور آپ اس کا بر ملا اظہار کرتے تھے۔سکے اس لئے ان وجوہات کی بنا پر آپ کے بارہ میں یہ مشہور تھا کہ آپ اُموی الهولی ہیں۔دراصل آپ بنیادی طور پر بغاوت کے خلاف تھے۔آپ کا نظریہ یہ تھا کہ بغاوت کے نتیجہ میں جو خون ریزی ہوتی ہے اُس کی کوئی انتہاء نہیں۔پھر اگر بغاوت کامیاب بھی ہو جائے تو جس کو اقتدار ملتا ہے وہ پہلے جیسا یا پہلے سے بھی بدتر ہوتا ہے۔کسی خیر اور بہتری اور بھلائی کی اُمید نہیں ہوتی۔بنو عباس کی باغیانہ تحریک کے بارہ میں بھی وَلِكُلّ وَ جَهَةٌ هُوَ مُوَلَيْهَا قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلى شاكلته (محاضرات صفحه ۱۶۳، ۲۱۷) مالک بن انس صفحه ۲۵۸ مالک بن انس صفحه ۲۵۱۰۱۳۱۰۴۱ (محاضرات صفحه ۲۲۲۲۲۰)