تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 143 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 143

تاریخ افکار را سلامی آپ کے اس قسم کے خیالات تھے اور اسی وجہ سے شروع شروع میں عباسی آپ سے بدگمان بھی تھے۔بہر حال بنو امیہ کے دور کا کوئی خاص واقعہ جس کا تعلق آپ سے ہو تاریخ نے ریکارڈ نہیں کیا اور نہ یہ معلوم ہے کہ عام خلفاء بنو امیہ سے آپ کے تعلقات کیسے تھے اور ان کی عقیدت کا کیا حال تھا۔یہ زمانہ بھی آپ کے عروج کے آغاز کا تھا اس لئے بھی ایسا ہونا مشکل تھا کہ حکومت کے لئے آپ کسی درجہ میں مرکز تو جہ ہوتے۔بنوعباس کی حکومت کا جب آغاز ہوا تو جیسا کہ اشارہ گزر چکا ہے آپ کو بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ایک تو ان جبری قسموں کا معاملہ تھا جو نئی حکومت کی طرف سے پبلک سے لی جارہی تھیں۔ان کی شرعی حیثیت آپ کے نزدیک کچھ بھی نہیں تھی اور آپ سوال ہونے پر اس کا بر ملا اظہار بھی کرتے تھے۔دوسرے ائمہ دین طبعا بے نیاز تھے اور وہ استبدادی حکومت سے کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہتے تھے۔اس کے بالمقابل نئی حکومت کی یہ پالیسی اور خواہش تھی کہ وہ پبلک میں مقبول ارباب حل و عقد اور اثر و رسوخ کا قریبی تعاون حاصل کرے اور اُن سے حکومت کے استحکام میں مدد لے۔ایسے حالات میں جو حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے اور قریبی تعاون دینے کے لئے تیار نہ تھے لازم تھا کہ وہ حکومت کی سختی کا نشانہ بنتے۔چنانچہ عراق میں امام ابو حنیفہ اور مدینہ میں امام مالک کو اسی صورت حال کا سامنا تھا اور دونوں اپنے اپنے حالات اور رجحانات کے تحت اس سے نبٹ رہے تھے۔جیسا کہ ذکر آچکا ہے خلفائے عباسیہ خصوصاً دوسرے خلیفہ ابو جعفر منصور کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ لوگ حکومت کے خلاف اُٹھنے کی جرات نہ کریں۔ادھر بنو امیہ کے ہوا خواہ اور مفاد یافتہ دل سے عباسی حکومت کے مؤید نہ تھے اور بغاوت کے مواقع تلاش کرتے رہتے تھے۔دوسرے علوی بھی خوش نہ تھے کیونکہ تحریک انہی کے نام پر چلی تھی اور انہیں پوری پوری توقع تھی کہ بنو امیہ کے بعد خلافت ان کو ملے گی اس لئے جب ایسا نہ ہوا تو شیعانِ اہل بیت عباسیوں کے سخت خلاف ہو گئے اور عباسیوں کو بے وفا اور غاصب سمجھنے لگے۔ایسے حالات میں رعایا کو قابو میں رکھنے کے لئے عباسیوں نے جو تدابیر اختیار کیں ان میں ایک نذیر قسمیں لینے کی بھی تھی۔لوگوں کو مجبور کیا جاتا کہ وہ بیعت کرتے وقت قسم اُٹھا ئیں کہ اگر