تاریخ افکار اسلامی — Page 141
تاریخ افکار را سلامی نہ تھے ، نہ فرضی مسائل سوچتے اور نہ زیادہ قیاس سے کام لیتے ہیے امام مالک کی معیشت جیسا کہ لکھا گیا ہے امام مالک کا گھرانہ مالی لحاظ سے کوئی خوشحال گھرانہ نہ تھا۔معمولی گزا را تھا۔آپ نے بڑی تنگی کے حالات میں تعلیم حاصل کی۔جب مسند تدریس پر بیٹھے تب بھی حالات قریباً جوں کے توں تھے۔آپ کے پاس چارسو کے قریب دینا رتھے جن کو تجارت میں لگا رکھا تھا اس سے جو کچھ آنا گھر کا گزارا چلتا ہے ایک آزاد شدہ لونڈی سے شادی کی تھی اور اُسی کے ساتھ خوش خوش زندگی گزار دی۔پھر جب آپ کی مقبولیت بڑھی اور دنیا کی عقیدت نے آپ کے قدم چومے۔حکام اور خلفاء آپ کی مجلس میں آنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے بتدریج آپ کے مالی حالات کو بھی سدھار دیا۔آپ عام حکام سے کسی قسم کا نذرانہ قبول نہ کرتے تھے لیکن خلفاء کی طرف سے جو تحائف آپ کی خدمت میں پیش ہوتے وہ آپ بخوشی قبول کر لیتے تھے۔آپ کا نظر یہ تھا کہ خلفاء کی طرف سے جو نذرانہ آئے اور اُس کے ساتھ کوئی غلط خواہش وابستہ نہ ہو تو اسے قبول کر لینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حقیقت کے لحاظ سے بیت المال میں اُن لوگوں کا بھی حق ہے جنہوں نے علم کی اشاعت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے۔خلفاء عباسیہ کی طرف سے آپ کی خدمت میں جو رتیں پیش کی جاتیں ان کا اکثر حصہ آپ اپنے مدرسہ کے طلبہ پر خرچ کرتے تھے۔امام شافعی کے زمانہ طالب علمی کے اکثر اخراجات امام صاحب نے اپنے ذمہ لے رکھے تھے اور دوسرے طلبہ کی مدد کا بھی یہی حال تھا۔كان منهاج الراى عند المدنيين المصلحة اتباعا لسعيد بن المسيب و الزهري و عند العراقيين " القياس اتباعًا لعبد الله بن مسعود و علی بن ابی طالب۔كان مالك يقول سَلَ عَمَّا يكون ودَع عَمَّا لا يكون۔۔۔۔۔۔فلا يجيب عن مسئلة لم تقع وان كانت متوقعة بخلاف عمل ابي حنيفة فانه يجيب عن كل مسئلة وقعت أولم تقع۔قال ابن رشد مالک امیر المؤمنين فى الرأى والقياس ايضاً - تفصیل کے لئے دیکھیں۔مالک بن انس صفحه ۱۹۵ محاضرات صفحه ۲۰۳ و ۲۰۸ محاضرات صفحه ۲۱۷