تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 140 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 140

۱۴۰ L تاریخ افکا را سلامی صَوَابًا مِّنْ كِتَابِ مَالِكِ حضرت امام مالک کے فقہی مسلک کو بڑی تفصیل کے ساتھ آپ کے متعد د شاگردوں نے مدون کیا ہے جن میں سے مندرجہ ذیل زیادہ مشہور ہیں الْمُدَوَّنَةٌ لِسَحْنُون - كتاب المجالسات لا بن وهب - المختصر الكبير لابن عبدالحكم - امام مالک علم کی تحدید کے قائل تھے۔آپ کی رائے تھی کہ علم کی تین قسمیں ہیں۔علم کی ایک قسم وہ ہے جسے ہر خاص و عام کو سیکھنا چاہیے اور وہ حدیث صحابہ اور نا بعین کے فتاوی کا علم ہے۔یہ علم اس لئے سیکھنا چاہیے تا کہ ہر ایک اپنی زندگی اس علم کے مطابق ڈھال سکے اور دین و دنیا کی برکات کا وارث بنے۔علم کی دوسری قسم کا تعلق عقائد ، مختلف فرقوں کے نظریات اور جدل و مناظرہ سے ہے۔یہ علم صرف ذہین لیکن نیک فطرت علماء کے جانے کا ہے۔عوام ان باتوں کو سمجھ نہیں سکتے اور گمراہی کی طرف جھک جاتے ہیں اس لئے عوام کو اس سے بچانا چاہیے۔علم کی تیسری قسم وہ ہے جو فقہ الرائے" کے نام سے مشہور ہے یعنی اجتہاد اور اس کے لئے مختلف ذرائع سے کام لینے کا سلیقہ اور ملکہ۔اس میں تو عمل اور انہماک بھی انسان کو حد اعتدال سے نکالنے کا باعث بنتا ہے صرف ضرورت کے وقت اس علم سے کام لینا چاہیے اور کسی معاملہ میں اس وقت رائے کا اظہار کرنا چاہیے جبکہ واقعہ اس کا سامنا ہو اور کوئی نص نہ ملتی ہو۔قبل از وقت فرضی مسائل اور ان کے جواب تیار کرنا اور فقہ تقدیری کے انبار لگانا درست طریق نہیں اور نہ ایسے علم کا کوئی دینی فائدہ ہے۔امام صاحب کا طریق علمی یہی تھا کہ جب کوئی واقعہ آپ کے سامنے آنا اور آپ کو نص نہ ملتی تو بالعموم " مصالح امت کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑے غورو فکر کے بعد اپنی رائے کا اظہار کرتے اور وہ رائے ہر لحاظ سے معقول اور دل کے لئے قابل اطمینان ہوتی۔حنفیوں کی طرز فکر کے آپ قائل ↓ ويقول العلماء المؤطا هو الاصل الاول والبخارى هو الاصل الثاني مالك بن انس صفحه ۷ ۱۸۸۰۱۸) - مزید تفصیل کے لئے دیکھیں۔مالک بن انس صفحه ۲۶۳۱۹۳۰۱۰۳٬۱۰۱، ۲۶۵- محاضرات صفحه ۲۳۸