تاریخ افکار اسلامی — Page 139
تاریخ افکا را سلامی امام مالک کا فقہی مسلک ۱۳۹ الله۔امام مالک اصلاً محدث تھے۔کتاب وسنت کے بعد فتاویٰ صحابہ اور عمل اہل مدینہ کی پابندی آپ کا مسلک تھا۔بدعات سے بھاگتے اور صرف ضرورت کے وقت اجتہاد سے کام لیتے اور مسئلہ پیش آمدہ کے بارہ میں اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔امام مالک کی رائے اجتہاد کا ماخذ زیادہ تر " مصالح مرسلہ تھیں اور حسب ضرورت جبکہ نص کی علت اور وجہ واضح ہوتی آپ قیاس سے بھی کام لیتے۔امام مالک کو سند کے لحاظ سے یہ شرف بھی حاصل تھا کہ مضبوط ترین اور مختصر ترین سند کے آپ حامل تھے۔اس سند کو مسلسلة الذهب کہا جاتا ہے جیسے مالک عن نافع عن ابن عمر عن رسول الله۔اس قسم کی اعلیٰ سند کا شرف کسی اور امام فقہ کو حاصل نہیں تھا یہاں تک کہ حضرت امام ابو حنیفہ جو عمر میں آپ سے بڑے تھے ان کی سند بھی کم از کم چار واسطوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے۔جہاں تک تصنیف کا تعلق ہے امام مالک کی اصل تصنیف موطا ہے جس میں ۱۷۲۰ روایات درج ہیں۔کل راوی پچانوے ہیں۔سوائے چھ کے باقی سب راوی مدینہ کے رہنے والے تھے۔ان چھ میں سے دو راوی بصرہ کے، ایک راوی مکہ کا ، ایک الجزیرہ کا، ایک شام اور ایک خراسان کا ہے۔موطاحد بیث اور فقہ کی ملی جلی کتاب ہے۔پانچ سو کے قریب مسند مرفوع احادیث ہیں۔تین سو کے قریب مرسل ہیں۔باقی حصہ بلاغات صحابہ اور تابعین کے فتاویٰ اور عمل اہل مدینہ کے ذکر پر مشتمل ہے۔اس کے تھیں کے قریب نسخے ہیں جن میں تھوڑا بہت اختلاف ہے لیکن دو نسخے سب سے زیادہ متداول ہیں۔ایک نسخہ یحیی بن یحی الی الاندلسی کا تیار کردہ ہے جو موطا امام کے نام سے مشہور ہے اور دوسرا امام محمد بن حسن الشیبانی کا مرتب کردہ ہے اور انہی کے نام سے مشہور ہے یعنی موطا امام محمد۔جس میں امام محمد نے حسب موقع و محل حنفی مسلک کا بھی جگہ جگہ ذکر کیا ہے۔امام شافعی موطا کے بارہ میں کہا کرتے تھے مَا فِی الْأَرْضِ كِتَابٌ فِي الْفِقْهِ وَ الْعِلْمِ أَكْثَرُ مالک بن انس صفحه ۷۳