تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 138 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 138

تاریخ افکار را سلامی ۱۳۸ امام مالک کے دوسرے بڑے مشہور مصری شاگر د عبد اللہ بن وہب ہیں۔ان کو مالکی ديوان العلم " کہتے تھے۔امام مالک کہا کرتے تھے کہ ابنُ وَهْبٍ عَالِمٌ وَابْنُ القَاسِم فَقِيَّة۔ان کی بڑی عمدہ کتاب " جامع ابن وہب " حال ہی میں مخطوطہ کی صورت میں دریافت ہوئی ہے ہے ابن وہب ۹۷ ھ میں فوت ہوئے۔امام مالک کے تیسرے مشہور مصری شاگر داشہب بن عبد العزیز ہیں۔امام شافعی کہا کرتے تھے کہ میں نے اظہب سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں دیکھا لیکن ان کی طبیعت بڑی زود رنج تھی۔امام ابن القیم بھی ان کو مالکیوں کا سب سے بڑا فقیہ سمجھتے تھے سے الہب ا ۲۰۴ ھ میں فوت ہوئے۔عبد اللہ بن الحکم بھی امام مالک کے بڑے مخلص شاگر داور بہت بڑے پایہ کے فقیہ تھے۔ان کی کتاب "الختصر الکبیر اٹھارہ ہزار مسائل پر مشتمل ہے۔انہوں نے امام مالک کی روایات پر مشتمل حضرت عمر بن عبد العزیزہ کی سیرت بھی مرتب کی تھی۔یہ مصر کے ایک حصہ کے والی بھی رہے۔حضرت امام شافعی کے ساتھ بڑے مخلصانہ تعلقات تھے۔امام شافعی جب مصر آئے تو انہوں نے ان کی بڑی مدد کی اور ہر طرح کی سہولت بہم پہنچائی۔اندلس میں عیسی بن دینار اور یحییٰ بن یحی اللیغی کے ذریعہ مالکی مذہب کو فروغ ملا یہ دونوں امام مالک کے بڑے مخلص اور قابل شاگر د تھے۔کسے بیٹی پر بری الاصل تھے۔وہ اٹھائیس سال کی۔عمر میں مدینہ منورہ آئے۔امام مالک سے موطا کا اکثر حصہ پڑھا۔امام صاحب کی وفات کے بعد مکہ گئے اور سفیان بن عیینہ سے احادیث کا درس لیا۔پھر مصر آکر ابن القاسم کے شاگرد رہے۔تحصیل علم کے بعد واپس اندلس آئے۔وہاں کے علمی حلقوں میں بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔اُموی امیر الحکم بن ہشام آپ سے بڑی عقیدت رکھتا تھا۔آپ سے مشورہ لے کر اندلس میں قاضی مقرر کرنا۔ہا و جو د اصرار کے خودانہوں نے حکومت میں کوئی عہدہ قبول نہ کیا۔امیر پر ان کے اس اخلاص کا بھی اثر تھا۔بہر حال ان کی وجہ سے اندلس میں مالکی فقہ کو بہت فروغ ملا۔موطا امام مالک کی مشہور روایت انہی کی طرف منسوب اور مستند ترین روایت شمار ہوتی ہے۔ويُعد من اقدم المخطوطات العربية في العالم (مالک بن انس صفحه ۲۶۶) ما رأيت افقه من اشهب لولا الطيش فيه نفس المصدر) بهما انتشر فقه مالك فى الاندلس (مالک بن انس صفحه ۲۷۰)