تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 135 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 135

تاریخ افکا را سلامی ۱۳۵ اور صاف کہہ دو کہ میں نہیں جانتا اسی میں عزت ہے۔امام مالک نے ہمیشہ اس نصیحت کو مدنظر رکھا۔جب آپ سے کوئی سوال کیا جاتا اور اس کا جواب آپ کو معلوم نہ ہوتا تو صاف کہہ دیتے لا آذری “ میں نہیں جانتا۔ایک شخص نے ایک دفعہ افریقہ سے آکر آپ سے کہا آپ اتنے بڑے عالم ہیں اور میں اتنی دُور سے سوال پوچھنے آیا ہوں اور آپ کہتے ہیں کہ لا اذری مجھے اس کا جواب نہیں آتا۔آپ نے فرمایا: ہاں ہاں ساری دنیا میں اعلان کر دو کہ مالک کو اس کا جواب نہیں آتا۔مذکورہ بالا دو اُستادوں کے علاوہ آپ نے نافع مولی ابن عمر محمد بن شہاب زہری اور امام جعفر صادق سے بھی شرف تلنند حاصل کیا۔امام جعفر صادق علم اہل بیت کے امین تھے۔ابن شہاب زہری ، حضرت سعید بن مسیب کے شاگرد اور حضرت زید بن ثابت کی روایات کے وارث تھے اور نافع ، ابن عمر اور علم مدینہ کے حامل تھے۔یحیی بن سعید الانصاری سے بھی آپ نے حد میث اور فقہ پڑھی تھی لیکن اپنے اساتذہ میں سے سب سے زیا دہ متاثر آپ ابن ہرمز اور ابن شہاب زہری سے تھے۔اخذ حدیث میں حضرت امام مالک بڑے محتاط تھے ایک بار آپ نے فرمایا میں نے ستر سے زیادہ علماء کو دیکھا ہے جو مسجد نبوی کے ان ستونوں کے درمیان بیٹھے قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ کا درس دے رہے ہوتے تھے وہ سب نیک ، بڑے دیانتدار اور مالی معاملات میں بڑے امین تھے لیکن میں نے اُن سے حدیث کا ایک لفظ بھی نہیں سیکھا کیونکہ میرے نزدیک وہ محدث ہونے کے اہل نہ تھے ہے امام مالک نے حصول علم کے لئے خوب محنت کی سخت سے سخت موسم میں بھی آپ اپنے استاد کے ہاں جاتے اور جہاں تک ممکن ہونا سبق میں ناغہ نہ ہونے دیتے۔خاص طور پر علم حدیث کا حصول آپ کا نصب العین زندگی تھا۔آپ نے بوساطت بحر العلوم ابن شہاب زہری، ابن بر مز ، ربيعَة الرَّاني ، علی بن سعید الا نصاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث جمع کیں۔اسی طرح صحابہ عمدہ بینہ خاص طور پر حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت ابن عمرؓ، حضرت زید بن ثابت ل كان يقول ابن هرمز لتلاميذه ينبغى للعالم ان يُورث جُلَسًا له قول لا ادری (محاضرات صفحه ۲۰۹) أفهم لم يكونوا من اهل هذا الشأن (محاضرات صفحه ۱۹۹)