تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 136 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 136

IFY اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کے فتاویٰ اکٹھے کئے۔کہا رتا بعین خصوصاً فقہائے سبعہ مدینہ کی فقہی آراء پر عبور حاصل کیا، لیکن انتخاب اور بیان کے وقت آپ نے جن احادیث اور فتاوی وغیرہ کو اس قابل سمجھا کہ وہ آپ کی کتاب موطا میں شامل ہوں اُن کی کل تعداد جیسا کہ گزر چکا ہے ۷۲۰ تھی ان میں ابن شہاب زہری کی کل مرویات ایک سو ہیں۔آپ بیان حدیث میں بھی بڑے محتاط تھے نہ ہر کہ ومہ کی حد بیث روایت کرتے اور نہ ہر روایت کو قابل حجت سمجھتے۔ابن بُر ممز عمل اہل مدینہ کو اخبارا حاد پر ترجیح دیتے تھے اور کہا کرتے تھے الف عَنْ أَلْفِ خَيْرٌ مِنْ وَاحِدٍ عَنْ وَاحِدٍ - امام مالک بھی اپنے استاد کی اس رائے سے متفق تھے اور عمل اہل مدینہ کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔امام مالک کے تمام اساتذہ مدینہ سے تعلق رکھتے تھے۔مدینہ ہی آپ کا مدرسہ علم تھا کسی اور جگہ آپ حصول علم کے لئے نہیں گئے۔حضرت عمر بن عبد العزیز سے بھی آپ کو بڑی عقیدت تھی۔ان کی آراء کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کے کارناموں کو سراہتے تھے۔امام مالک کے شاگرد امام مالک حصول علم کے بعد اپنے اساتذہ کی اجازت اور ان کے مشورہ کے بعد مسند مد رئیس پر متمکن ہوئے۔مسجد نبوی میں اپنا حلقہء درس قائم کیا۔آہستہ آہستہ اس مدرسہ نے شہرت حاصل کی اور آپ کے درس حدیث کو مقبولیت حاصل ہوئی۔عظمت نے قدم چومے اور ائت کی طرف سے آپ کو امام دار الحجرت، استاذ مدینۃ الرسول اور امیر المؤمنین فی الحدیث کے خطاب ملے تے شاگردوں کے لحاظ سے بھی آپ بڑے خوش نصیب تھے۔اندلس، افریقہ اور ترکستان تک سے آپ کے پاس علم سیکھنے لوگ آئے اور دولت علم سے مالا مال ہو کر واپس گئے۔دو ائمہ مذاہب یعنی امام شافعی اور قال مالک سمعت من ابن شهاب احاديث كثيرة ما حدثت بها قط ولا احدث بها قيل لم قال ليس عليها العمل مالک بن انس صفحه ۱۰۵ و۱۸۷) مزید تفصیل کے لئے دیکھیں۔مالک بن انس صفحه ۱۶۹۰۷۱۰۶۳، ۱۷۵ و محاضرات صفحه ۲۰۳ لما بلغ مالك خمسين لم يكن في المدينة مثله ولما فارق ابو حنيفة الحياة الدنيا في منتصف القرن الثاني لم يبق على ظهر الأرض لدة له مدة ثلاثين عاماً (مالک بن انس صفحه ۹۳)