تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 94 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 94

تاریخ افکا را سلامی ۹۴ اور اس نص میں حکم کی علت اور وجہ موجود ہو اور پھر اس وجہ کا مجتہد کو علم ہو جائے۔یہ باتیں خاصی مشکل اور محمد ود ہیں لے دوسری طرف ضرورت ہے اور حقیقت تک پہنچنے کے لیے دوسرے ذرائع کی تلاش کی طرف توجہ مبذول کرنی پڑتی ہے جن میں سے ایک ذریعہ استحسان ہے۔کتب فقہ میں استحسان کی کئی مثالیں مل سکتی ہیں وضاحت کی غرض سے چند ایک کو ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔ا پیشگی سودا منع ہے حضور نے فرمایا لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِندَگ یعنی جو چیز تیرے پاس نہیں ہے اس کا سودا نہ کر کیونکہ اگر کوئی اس بنا پر سودا کر لے کہ فلاں وقت یہ چیز میرے پاس آجائے گی تو ادا ئیگی کر دوں گا لیکن وقت پر وہ چیز نہیں ملتی یا اس کو الٹی کی نہیں ملتی تو فریقین میں جھگڑا اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور جس معاہدہ میں تنازع کے بیج موجود ہوں وہ معاہدہ اصولاً جائز نہیں لیکن بعض اوقات پیبلک میں ایسے لین دین کا رواج ہوتا ہے لوگ اس کے ضرورت مند ہوتے ہیں بائع کو جلد رقم کی ضرورت ہوتی ہے اور مشتری کو بعد میں کسی وقت چیز چاہیے ہوتی ہے اس پبلک رواج اور مصلحت کی بنا پر بعض شرائط کے ساتھ پیشگی سودے کی شارع نے استثنائی اجازت دی ہے اور بیع سلم کی اجازت اسی مصلحت کی بنا پر ہے جو اصول استحسان کی ایک مثال ہے۔ایک دفعہ دو بہنوں کی اکٹھی شادی ہوئی لیکن رختانہ میں دلہنیں بدل گئیں جس کا علم نہ ہو سکا۔صبح کو جب اس کا علم ہوا تو گھر والے گھبرائے اور فقہاء سے مسئلہ دریافت کیا گیا۔امام سفیان ثوری کا نے فتوی دیا کہ چونکہ لاعلمی میں ایسا ہوا ہے اس لیے کوئی گناہ کی بات نہیں تا ہم مباشرت کی وجہ سے تمع “ یعنی مناسب مہر کی ادائیگی ضروری ہے اور دلہنوں کو ان کے اصل خاوندوں کے پاس بھجوا دیا جائے جس جس سے ہر ایک کا نکاح ہوا ہے۔امام ابو حنیفہ سے بھی استصواب کیا گیا آپ نے فرمایا یہ قومی تو اپنی جگہ درست ہے لیکن نفسیات کا تقاضا کچھ اور ہے کیونکہ جو عورت اپنے خاوند کے علاوہ کسی دوسرے کے پاس رہ آئی ہے چاہے غلطی سے ہی ایسا ہوا ہے، ہو سکتا ہے کہ خاوند کے دل میں کچھ تکدر کا موجب ہو اور اس سے ل النصوص قليلة وبقلتها تضيقُ دَائِرَةُ القياس فكل اصل شرعي لم يشهد له نص معين كان ملا ئما لتصرفات الشرع و مأخوذا معناه من ادلة فهو صحيح يبنى عليه ويرجع اليه ( مالک بن انس صفحه (۲۴) محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية صفحه ٣٦١