تاریخ افکار اسلامی — Page 93
تاریخ افکا را سلامی ٩٣ تعلق عبادات سے نہ ہو۔عبادات میں نص کی ضرورت ہوتی ہے۔ان میں قیاس سے کام لینا درست نہیں مثلاً جرابوں پر مسح کی اجازت ہے اور اس رعایت کی علت اور وجہ انسان کو حرج سے بچانا ہے کہ بار بار جرابیں اتارنے اور پہننے کے تکلف سے وہ بچ سکے۔اب سویٹر اور جیکٹ کو اگر کوئی جرابوں پر قیاس کرے اور کہے کہ اس کے اتارنے اور پہننے میں بھی حرج ہے اس لیے بانہوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے تو یہ قیاس درست نہ ہوگا کو حرج کی علت کے موجود ہونے سے انکار نہیں۔اسی طرح یہ قیاس کہ کئی مجبوریاں تخفیف حکم کا باعث بنتی ہیں جنگ یا سفر کی وجہ سے نمازیں جمع بھی کر سکتے ہیں اور قصر بھی اس بنا پر اگر کوئی کہے کہ شدید مصروفیت کے اس زمانہ میں نمازیں پانچ کی بجائے کم ہو سکتی ہیں تو یہ قیاس باطل ہوگا کیونکہ مسلمہ اصول یہ ہے کہ عبادات قیاس کا محل نہیں ان میں نص تک ہی محدود رہنا ضروری ہے۔لے الاسْتِحْسَان استحسان کے لغوی معنی ہیں اچھا سمجھنا بہتر صورت اور بہتر راہ اختیار کرنا اور فائدہ کی بات کو ترجیح دینا۔حنفی مسائل شرعیہ کی تعیین کے لیے استحسان کے سے کام لینے کے بھی قائل ہیں اور کوئی دینی رائے قائم کرنے کے لیے استحسان کو وہ بنیا مانتے ہیں۔اس کی ضرورت بالعموم اس وقت پڑتی ہے جب کہ خبر واحد یا قیاس کسی مشکل کا باعث بن رہے ہوں۔یا کوئی پبلک مصلحت استحسان کے اصول کو اپنانے کی متقاضی ہو۔قیاس کا دائرہ خاصہ تنگ ہے کیونکہ قیاس میں ضروری ہے کہ کوئی نص ہو الوقوف عند النص فى العبادات واجب باجماع (الامام الشافعي صفحه (۳۴۶) مزید تفصیل کے لیے دیکھیں۔الامام الشافعی صفحه ۲۴۲٬۲۳۰،۱۳۸ محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية: صفحه ۲۷۴۰۲۵۵، ۲۹۳۲۲۸۵ الف: الاسْتِحْسَانُ الحكم في مسئلة بغير ما حكم به في نظير ها لدليل من نص أو اجماع او ضرورة او المعارضة القياس الظاهر بقياس اقوى وهو الاستحسان الاصطلاحي عند الحنفية اما عند مالكي فعندة الاستحسان أو سع من ذالك لأنه يشتمل الاستحسان الاصطلاحي والمصلحة المرسلة (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ۱۷۷ و ۳۶۳) ب: الاستحسان الاخذ بمصلحة جزئية في مقابل دليل كُلى يلجأ اليه اذا كانت نتائج القياس لا تستاع (ابو حنيفه صفحه ۱۷۷