تاریخ افکار اسلامی — Page 95
تاریخ افکا را سلامی ۹۵ دونوں کی زندگی تلخ ہو جائے۔آپ نے دونوں مردوں کو الگ الگ بلوایا اور کہا کہ جس عورت کے ساتھ تم نے رات بسر کی ہے وہ تمہیں پسند ہے یا نہیں ہر ایک نے کہا کہ اُسے پسند ہے چنانچہ آپ نے ہر ایک کو مشورہ دیا کہ وہ اس عورت کو طلاق دیدے جس سے اس کا نکاح ہوا ہے اور اس سے نکاح پڑھالے جس کے ساتھ اس نے رات بسر کی ہے اور میر کا بھی ادل بدل ہو جائے کسی عدت کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ خاوند اپنی منکوحہ کو قبل از مباشرت طلاق دے رہا ہے اور جس سے نیا نکاح ہو رہا ہے وہ وہی ہے جس کے پاس وہ رات گزار چکا ہے ایسی صورت میں عدت کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔اس کیس میں نفسیات کے پہلو اور مرد عورت کی آئندہ زندگی کی مصلحت کا خیال رکھا گیا ہے جو اصول استحسان کی ایک مثال ہے لیے حضرت ابو بکر نے ایک بار فرمایا اگر میں کسی کو زنا کرتے ہوئے دیکھ لوں تو نہ اپنے اس علم کی بنا پر ان کو سزا دوں اور نہ کسی کو گواہ بنانے کے لیے بلاؤں آپ کا یہ فرمان پر دہ پوشی کی مصلحت پر مینی ہے اور اس بات پر کہ قاضی اپنے علم کی بنا پر کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا اس کا فیصلہ گواہی پر مبنی ہونا چاہتے ہیں یہ بھی اصول استحسان کی ایک مثال ہے۔اختگار یعنی مہنگا بیچنے کی نیت سے مال روکنے کی ممانعت کا تعلق بھی اصول استحسان سے ہے کیونکہ یہ ممانعت پبلک مصلحت کی بنا پر ہے تا کہ صارفین ضرورت کی چیز کے حصول میں کسی مشکل سے دو چار نہ ہوں یا وہ مہنگا خریدنے پر مجبور نہ ہوں۔قرائن اور ابتدائی ثبوت کے بعد ملزم کو حوالات میں بند کرنے یا اس پر مناسب سختی کرنے کا جواز بھی اصول استحسان پر مینی ہے۔ہے حضرت امام شافعی نے اصول استحسان کی مخالفت کی ہے اور اس کی وجہ سے حنفیوں کو نشانہ تنقید بنایا ہے اور یہاں تک فرمایا ہے کہ استحسان سے کام لینے والا خود شارع بننے کی کوشش کرتا ہے تے کیونکہ کسی بات کا اچھا لگنا اپنے ذوق یا اپنے مفاد کی بات ہے ایک مفتی بعض وجوہات کی بنا پر ابو حنيفه صفحه ۱۷۸ ک الامام الشافعی صفحه ۲۴۳ مالک بن انس صفحه ۲۱۵ قال الشافعى من استحسن فقد شرع لان الاستحسان لا ضابطة له ولا مقياس (محاضرات صفحه (۲۹۰)