تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 99
آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے کہ اپنا مرکز تعمیر کرلیا اور خدا کرے کہ انصار اللہ کو بھی اس طرف توجہ پیدا ہو اور وہ اس حماقت کو چھوڑ دیں کہ قادیان واپس جانے کے متعلق بہت سی پیشینگوئیاں ہیں اس لیے قادیان نہیں ضرور واپس لے گا۔اور چونکہ قادیان نہیں واپس ملے گا اس لیے ہمیں یہاں کوئی جگہ بنانے کی ضرورت نہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ قادیان کے متعلق جو پیشنگوئیاں ہیں وہ مکہ کے متعلق جو پیشیکو میاں تھیں ان سے زیادہ نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ پیشگوئیاں ظاہری معنوں کے لحاظ سے پوری نہیں ہوئیں، اس لیے تمہیں بھی پتہ نہیں کہ آئندہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔۔۔۔اگر چہ ہم بھی امید رکھتے ہیں کہ قادیان ہمیں واپس لے گا اور ایک مومن کو یہی امید رکھتی چاہیئے کہ قادیان میں واپس ملے گا اور و ہی ہمارا مرکزہ ہوگا، لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ عملاً ہمارا مرکزہ وہی ہو گا جہاں ہمیں خدا تعالیٰ رکھنا چاہتا ہے۔پس ہمیں اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے کاموں کو وسیع کرنا چاہیے اور اس بات کو نظر اندازہ کر کے کہ ہم نے قادیان واپس جانا ہے اپنا کام کرتے پہلے جانا چاہیے بلکہ میں تو کہوں گا کہ اگر نہیں تاری بھی آجائے کہ آؤ اور قادیان میں نہیں جاؤ تو بھی تمہیں شام تک کام کرتے پہلے جانا چاہیئے تا یہ پتہ لگے کہ ہمیں کام سے فرض ہے نہیں قادیات سے مرض نہیں ہمیں ریوہ سے کوئی غرض نہیں۔اگر ہمیں خدا تعالیٰ نے جائے تو ہم وہاں پہلے جائیں گے ورنہ نہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے نوکر ہیں کسی جگہ کے نہیں۔اگر ہم کسی جگہ سے محبت کرتے ہیں تو صرف اس لیے کہ خدا تعالیٰ نے اسے عزت دی ہے۔پس مومن کو اپنے کاموں میں گست نہیں ہونا چاہیے۔" حضور کے اس ارشاد کے تھوڑا ہی عرصہ بعد جماعت ایک اور آزمائش کے دور سے گزری۔شی میں جماعت کے خلاف فسادات شروع ہو گئے اور ملک میں مارشل لا کا نفاذ ہو گیا۔اس غیر معمول صورت تعمال کے باعث تعمیر دفتر کا کام پھر عرض التواء میں پڑ گیا بیان تک کہ تنظیم س میں سے آخر میں ایک جدید اور (۳۳) • سنہرے دور میں داخل ہو گئی۔١٩٥٤ء تعمر دفتر انصار الله عام طور پر عایا کی راہ یا مشکل کام ہوتا ہے، لیکن جب کسی بڑے منصوبے کیئے حاصل کرنا ہوں تو یہ مسئلہ اور بھی زیادہ مشکل اور صبر آزما ہو جاتا ہے اور اس امر کا