تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 77 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 77

زندہ کرنا ہے تو انصار اللہ کی عمر کے بعد اور کون سی عمر ہے میں میں وہ یہ کام کرینگے، انصار اللہ کی نظر کے بعد تو پھر ملک الموت کا زمانہ ہے اور ملک الموت اصلاح کے لیے نہیں آتا، بلکہ وہ اس مقام پر کھڑا کرنے کے لیے آتا ہے جب کوئی انسان سزا یا انعام کا مستحق ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔یا د رکھو اگر اصلاح جماعت کا سارا دار و مدار نظار توں پر ہی رہا تو جماعت احمدیہ کی زندگی کبھی نبی نہیں ہوسکتی۔یہ خدائی قانون ہے جو کبھی بدل نہیں سکتا۔ایک حصہ سوئے گا اور ایک حصہ جاگے گا۔ایک حصہ غافل ہو گا اور ایک حصہ ہوشیار ہو گا۔خدا تعالے نے دنیا کو گول بنا کہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے قانون میں یہ بات خاص ہے کہ دنیا کا ایک حصہ سوئے اور ایک حصہ جاگے یمی نظام اور عوام کے کام کا تسلسل دنیا میں دکھائی دیتا ہے۔در حقیقت یہ پر تو میں تقدیر اور نذیر کے کبھی عوامہ سوتے ہیں اور نظام جاگتا ہے اور کبھی نظام ہوتا ہے اور عوام جاگتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نظام بھی جاگتا ہے اور عوام بھی جاگتے ہیں اور وہ وقت بڑی بھاری کامیابی اور فتوحات کا ہوتا ہے ، وہ گھڑیاں جب کسی قوم پر آتی ہیں جب نظام بھی بیدار ہوتا ہے اور عوام بھی بیدار ہوتے ہیں تو وہ اس قوم کے لیے فتح کا زمانہ ہوتا ہے وہ اس قوم کے لیے کامیابی کا زمانہ ہوتا ہے وہ اس قوم کے لیے ترقی کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ شہر کی طرح گر جیتی اور سیلاب کی طرح پڑھتی چلی جاتی ہے۔ہر روگ جو اس کے راستہ میں حائل ہوتی ہے اسے مٹا ڈالتی ہے۔ہر جماعت جو اس کے سامنے آتی ہے اسے گرا دیتی ہے۔ہر چیز جو اس کے سامنے آتی ہے اسے بکھیر دیتی ہے اور اس طرح وہ دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف۔اس طرف بھی اور اس طرف بھی بڑھتی چلی جاتی ہے اور دنیا پر اس طرح چھا جاتی ہے کہ کوئی قوم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی مگر پھر ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب نظام سو جاتا ہے اور عوام جاگتے ہیں یا عوام سو جاتے ہیں اور نظام جاگتا ہے اور پھر آخر میں وہ وقت آتا ہے جب نظافتہ سو جاتا ہے اور عوام بھی سو جاتے ہیں۔تب آسمان سے خدا تعالی کا فرشتہ اترتا ہے اور اس قوم کی روح کو قبض کرلیتا ہے۔یہ قانون ہمارے لیے بھی جاری ہے۔جاری رہے گا اور کیمیا بدل نہیں سکے گا۔پس اس قانون کو دیکھتے ہوئے ہماری پہلی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہمارا نظام بھی بیدار ہو اور ہمارہ عوام بھی بیدار رہیں اور در حقیقت یہ زمانہ اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔خدا کا مطیع ہم میں