تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 76
64 گذر رہے ہیں میں میں دماغ تو سوچنے کے لیے موجود ہوتا ہے مگر زیادہ عمر گزرنے کے بعد ہاتھ پاؤں محنت و مشقت کے کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔اس وجہ سے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کاموں کے سرانجام دینے کے لیے کچھ نو جوان سیکرٹری رچالیس سال کے اوپر کے گر زیادہ تر کے نزہوں ، مقرر کریں جن کے ہاتھ پاؤں میں طاقت ہو اور وہ دوڑنے بھاگنے کا نام آسانی سے کر سکیں تاکہ ان کے کاموں میں سستی اور غفلت کے آثار پیدا نہ ہوں، میں سمجھتا ہوں اگر وہ چالیس سال سے بچپن سال کی عمر تک کے لوگوں پر نظر دوڑاتے تو انہیں ضرور اس عمر کے لوگوں میں سے ایسے لوگ مل جاتے جن کے ہاتھ پاؤں بھی ویسے ہی پھلتے جیسے ان کے دماغ چلتے ہیں۔۔۔۔اگر وہ اچھا کام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سابق سیکرٹریوں کے ساتھ بعض نوجوان منقرر کر دینے چاہئیں ، چاہے نائب سیکر ٹری بنا کر یا جائنٹ سیکریٹری بنا کہ تا کہ انصار اللہ میں بیداری پیدا ہو اور ان پر غفلت اور جمود کی جو حالت طاری ہو چکی ہے وہ دور ہو جائے۔ورنہ یاد رکھیں عمر کا تقاضا ایک قدرتی چیز ہے۔۔۔میں سمجھتا ہوں انصار اللہ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے وہ اپنی عمر کے آخری حصہ میں سے گذر رہے ہیں اور یہ آخری حصہ وہ ہوتا ہے جب انسان دنیا کو چھوڑ کر اگلے جہاں جانے کی فکر میں ہوتا ہے اور تیب کوئی انسان اگلے جہاں جا رہا ہو تو اس وقت اسے اپنے حساب کی صفائی کا بہت زیادہ خیال ہوتا ہے اور وہ ڈرتا ہے کہ کہیں وہ ایسی حالت میں اس دنیا سے کوچ نہ کر جائے کہ اس کا حساب گندہ ہو، اس کے اعمال خراب ہوں اور اس کے پاس وہ زاد راہ نہ ہو جو اگلے جہان میں کام آنیوالا ہے جب احمدیت کی غرض یہی ہے کہ بندے اور خدا کا تعلق درست ہو جائے تو ایسی عمر میں اور عمر کے ایسے حصہ میں اس کا جبیں قدر احساس ایک مومن کو ہونا چاہیئے وہ کسی شخص سے مخفی نہیں ہو سکتا۔نوجوان تو خیال بھی کر سکتے ہیں کہ اگر ہم سے خدمت خلق میں کو تاہی ہوئی تو انصار الله اس کام کو ٹھیک کر لیں گے مگر انصارالہ کس پر انحصار کر سکتے ہیں وہ اگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لیں گے اور اگر دین کی محبت اپنے نفوس میں اور پھر تمام دنیا کے قلوب میں پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوں گے۔وہ اگر احمدیت کی اشاعت کو اپنا اولین مقصد قرار ز دیگے اور وہ اگر اس حقیقت سے اغماض کر لیں گے کہ انہوں نے اسلام کو دنیا میں پھر