تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 66 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 66

۶۶ صحابہ جو بدر اور احمد کی لڑائیوں میں لڑے گیا وہ کسی ایسے نتیجہ کے لیے لڑے تھے جو سامنے نظر آرہا تھا، نہیں بلکہ ان کے دلوں میں ایمان بالغیب تھا۔۔۔۔۔۔سید ایمان بالغیب ہی تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ہر وقت قربانیوں کی آگ میں جھونکنے کے لیے تیار رہتے تھے اور یہ ایمان بالغیب ہی تھا جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں یقین پیدا ہو چکا تھا کہ دنیا کی نجات اسلام میں ہی ہے اور خواہ کچھ ہو ہم اسلام کو دنیا میں غالب کر کے رہیں گئے۔پس مجلس انصاراللہ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ انشاء اللہ کا کام یہ ہے کہ جماعت میں تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے پہلی ضروری چیز ایمان بالغیب ہی ہے انہیں اللہ تعالیٰ، ملائکہ قیامت ، رسولوں اوران شاندار اور عظیم الشان نتائج پر جو آئندہ نکلنے والے ہیں ایمان پیدا کرنا چاہیے۔انسان کے اندر بزدلی اور نفاق وغیرہ اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب دل میں ایمان بالغیب نہ ہو۔یؤمنون بالغیب کے ایک معنی امن دینا بھی ہے یعنی جب قوم کا کوئی فرد باہر جانا ہے تو اس کے دل میں یہ اطمینان ہونا ضروری ہے کہ اس کے بھائی اس کی بیوی بچوں کو امن دینگے، کوئی قوم جہاد نہیں کر سکتی جب تک اسے یہ یقین نہ ہو کہ اس کے پیچھے رہنے والے بھائی دیانتدار ہیں۔یہیں ان تینوں مجلسوں، کا ایک یہ بھی کام ہے کہ جماعت کے اندر ایک ایسی امن کی رُوح پیدا کریں۔ان تینوں مجالس کو گوشش کرنی چاہیئے کہ ایمان بالغیب ایک میچ کی طرح ہر احمدی کے دل میں گڑ جائے کہ اس کا ہر خیال، ہر قول اور ہر عمل اسکے تابع ہوا اور یہ ایمان قرآن کریم کے علم کے بغیر پیدا نہیں جو سکتا میں میاس۔۔۔۔انصار الله خدام الاحمدیہ اور لجنہ کا یہ فرض ہے اور ان کی یہ پالیسی ہونی چاہیئے کہ وہ یہ باتیں قوم کے اندر پیدا کریں اور ہر ممکن ذریعہ سے ان کے لیے کوشش کرتے ہیں لیکچروں کے ذریعہ - اسباق کے ذریعہ اور بار بار امتحان ہے کہ ان باتوں کو دلوں میں راسخ کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو بار بار پڑھایا جائے بیا نتک کہ ہر مرد وعورت اور ہر چھوٹے بڑے کے دل میں ایمان بالغیب پیدا ہو جائے۔