تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 65
40 کوئی خوشی کی بات نہیں۔۔۔۔۔جو تو میں تبلیغ میں زیادہ کوشش کرتی ہیں ان کی تربیت کا پہلو کمزور ہو جایا کرتا ہے اور ان مجالس کا قیام میں نے تربیت کی غرض سے کیا ہے۔۔۔۔۔یاد رکھو کہ اسلام کی بنیاد تقویٰ پر ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شعر لکھ رہے تھے ایک مصرعہ آپ نے لکھا مراک نیکی کی بڑ یہ اتق ہے اسی وقت آپ کو دوسرا مصرعہ الہام ہوا جو یہ ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے" اس العام میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اگر جماعت تقوی پر قائم ہو جائے تو پھر وہ خود ہر چیز کی حفاظت کریگا۔قرآن کریم کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسعد ذالت الكتاب لا ريب نيه هدى للمتقين ، یعنی یہ کلام متقی پر اثر کرتا ہے۔۔۔۔ہم اگر ترقی کر سکتے ہیں تو قرآن کریم کی مدد سے ہی اور قرآن کریم کہتا ہے کہ اس کی غذا متقی کیئے ہی طاقت اور قوت کا موجب ہوسکتی ہے، اگر کسی شخص کے معدہ میں کوئی خرابی ہو تو اسے گھی، دورود در مرغ، با دام وغیرہ کتنی اعلیٰ غذائیں کیوں نہ کھلائی جائیں اسے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا بلکہ الٹا اسے مہیضہ ہو جائیگا انڈا اسی صورت میں فائدہ دے سکتی ہے جب وہ مضم ہو۔قرآن کریم بنانا ہے کہ یہ غذا ایسی ہے جو مومن کے معدے میں ہی ٹھہر سکتی ہے۔۔۔پسی جماعت کا تقومی پر قائم ہونا بے حد ضروری ہے۔تقوی کی پہلی ضروری چیز ایمان کی درستی ہے قرآن کریم نے ایمان بالغیب مومن کی علامت یہ بتائی ہے کہ یومنون بالغیب۔پہلی علامت ایمان بالغیب ہے یعنی اللہ تعالی ملائکہ قیامت اور رسولوں پر ایمان لانا ، پھر اس ایمان کے نیک نتائج پر ایمان لانا بھی ایمان بالغیب ہے۔۔۔۔۔۔۔ایک شخص اگر دس سیر آٹا کسی غریب کو دیتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا اجر ملے گا تو وہ گویا غیب پرایمان لاتا ہے۔قربانی کا مادہ بھی ایمان بالغیب ہی انسان کے اندر پیدا کر سکتا ہے گویا قرآن کریم نے ابتدا میں ہی ایک بڑی بات اپنے ماننے والوں میں پیدا کردی، چنانچہ وہ