تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 51
۵۱ قیادتوں کا قیام اور دستور اساس کی تشکیل حضرت امیرالمومنین کے خطبہ جمعہ فرموده ۲۲ اخام اکتو بر س عیش کی روشنی میں تنظیم انصاراللہ کے ڈھانچے میں میں بنیادی تبدیاں کرنے اور حضور کے ارشاد کو موٹر رنگ میں ملی جامہ پہنانے کی غرض سے مورخہ ۲۷ انا دار استواری میں کو مرکزی ملبس کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو خاص طور پر مدعو کیا گیا تا کہ دستور اساسی کے رنگ میں کچھ قواعد و ضوابط مقر کر لیے جائیں ، اس اجلاس میں صدر مجلس موادی شیر علی صاحب کے علاوہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور خانصاب مولوی فرزند علی صاحب نے شرکت کی اور ابتدائی دستور اساسی کی شکل میں مندر جہ ذیل فیصلے کئے گئے ہیں یہ فیصلے اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنین نے ان کی منظوری عطا فرمائی اور یہ آئندہ طریق کار کو متعین کرنے کے لیے بنیا دینے ، اس لیے ان کا مکمل متن اس جگہ درج کیا جار ہا ہے۔آئندہ مرکزی مجلس کے علاوہ صدر کے چار صدہ دار ہوں قائد تبلیغ، قائد تعلیم و تربیت قائد ال زن درگیری ر سابق نام جنرل سیکرٹری جملہ عہدہ داران اپنے اپنے کام کے نگران اور ذمہ دار ہونگے اور انصار اللہ کا سارا حلقہ کار خواہ تا دیان میں ہو یا بیرو نجات میں ان کی نگرانی اور قیادت کے ماتحت ہوگا۔- مجلس مرکزی میں تین مزید ممبر بغرض مشورہ مقرب ہوا کرینگے۔ان کے پاس کوئی صیغہ نہیں ہوگا بلکہ دو صرف مشورہ کی غرض سے مرکزی مجلس میں شریک ہوا کرینگے۔صدر مولوی شیر علی صاحب ہوں گے ، قائد تبلیغ چوہدری فتح محمد صاحب ہونگے ، قائد تعلیم و تربیت مولوی فرزند علی خانصاحب، قائکہ مال میر محمد اسحاق صاحی ، قائد عمومی مولوی عبدالرحیم صاحب درد ہوں گے۔زائد عمر فی الحال چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب خان بہادر چوہدری ابوالعائنم صاحب ہوں گے۔له الفضل ۲ - فتح ۱۳۷۲ ۲ دسمبر ۱۹۲۳ کے ریکارڈ مجلس انصار الله مرکزی نیز افضل اور فتح کو دسمبر مش حضرت میر صاحب مورنہ بچے ، اور حل فرماگئے اوران کی جگہ سید زین العابدین دلانا شاہ صاحب قائد مال مقر ہوتے۔