تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 50
فت کےلیے فرنیچر کی بھی ضرور تھی۔کچھ عرصہ تک تو میں علیم اور ترجمہ القرآن کے دفاتر کا فرنیچر اعمال تا ہوتا رہا ، پھر ہم ہجرت رمئی امیش کو ساٹھ روپے کی منظوری دی گئی تا کہ اس سے ایک میز چار کرسیاں ۱۹۴۴- اور ایک پنچ خریدا جاسکے۔کچھ عرصہ بعد مرکزی دفتر دارالانوار سے شہر میں منتقل کر دیا گیا اور آئندہ سال کے بجٹ میں اس کے کرایہ کے لیے میں روپیہ کی گنجائش رکھی گئی۔و فتح دسمبر 1 میٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجلس کا مستقل دفتر تعمیر کیا جائے، تعمیر کا اندازہ ۱۹۴۴ پندرہ ہزار رو پر لگایا گیا۔اسی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ میں کے ماتحت ایک شعبہ نشرو اشاعت قائم کیا شعبہ نشر واشاعت جائے کہیں کا کام یہ ہو کہ اعراض تبلیغ کے لیے اشتہارات اور ٹریکٹ تیار کر کے انکی اشاعت کا انتظام کرے۔ان ہر دو امور کے لیے رقم کی فراہمی کا کام سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے سپرد کیا گیا اور ان کو اختیار دیا گیا کہ اس غرض کے لیے عطایا جمع کریں۔چنانچہ ساس میش کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر شاہ صاحب موصوف نے تعمیر دفتر اور نشر و اشاعت کا فنڈ قائم کرنے کی تحریک کی اور ان ہردو مدات میں۔۱۳۲۴ ۳۱۹۴۴ میشی تک صرف ۱۴۷۶ روپے وصول ہوئے۔نشرو اشاعت کے کام کے لیے ایک سب کمیٹی بنائی گئی جس کے ممبر چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور سستید دل اللہ شاہ صاحب مقرر ہوئے ، تعمیر دفتر کے لیے ایک الگ سب کیٹی بنائی گئی جو مندرجہ ذیل افراد نل تھی۔ماسٹر خیرالدین صاحب (نائب ناظر تعلیم و تربیت) منشی محمد الدین صاحب مختار عام صدر سیکرٹری -۳ مولوی عطا محمد صاحب ہیڈ کلرک دفتر بہشتی مقبره نائب سیکرٹری - بابو فضل دین صاحب ریڈر ہائی کورٹ با بو قاسم دین صاحب گورداسپور نمبر :