تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 49
-۴- حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تحریرات دربارہ خلافت بالخصوص خلافت احمدیہ خلافت کے متعلق غیر مبائعین کے اعتراضات کے جواب اور امین سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی تشریح۔برکات صلافت ساتواں دن مندرجہ بالا اسباق کے دہرانے کے لیے مقری کیاگیا تا کہ مضامین اچھی طرح ذہن نشین ہو جائیں۔مجلس انصارالله مرکز یہ کے زیر اہتمام پہلا اجتماعی علیہ روضہ مجلس انصارالله مرکز ی کا پہلا مقامی اجتماع و رفت رہبری میں مسجد العضی میں نواب ۲۵ چوہدری محمد دین صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب نے تحریک و فرائض انصار اللہ کے موضوع پر ایک مبسوط تقریر کی اور انصار اللہ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور بتلایا کہ ان کا وہی کام ہے جو انبیاء کا ہوتا ہے لینی تبلیغ بکتاب اللہ کا سکھانا ، شرائع کی حکمت بیان کرنا اولاد کی عمدہ تربیت اور شجاعت کی اقتصادی کمزوریوں کو دور کرنا معمولی وقت تبلیغ کے لیے دنیا اور حقیر سی رقم چندہ میں ادا کرنا کوئی بڑی قربانی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ایسے ذرائع ہیں جن سے ہم خدا کو پاسکتے ہیں چو ہدری صاحب کے بعد خانصاب مولوی فرزند علی صاحب نے انصار اللہ کے طریق کار پر تفصیل سے روشنی ڈالی آخر میں صاحب صدر نے انصار اللہ کی تحریک کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔دوسرے اجلاس میسج نواب اکبر باید جنگ آف حیدر آباد دکن کی صدارت میں جوا بعض اصحاب نے موجودہ جنگ کے متعلق پیشگوئیوں پر تقاریر کیں۔مجلس انصار اللہ کے قیام کے میں مرکزی دفتر کا فی زمانہ میں اجلاس عموما مر بعدا بدون این کانونی دفتر نہ تھا، اس زمانہ میں اجلاس عموماً مسجد مبارک میں ہوا کرتے تھے اور ان کا ریکارڈ مجلس کے ایک آزیری کارکن شیخ عبدالرحیم صاحب فرما (سابق کشن لعل، ایک جیٹ میں کیا کرتے تے لیکن مصلح جنوری ا میش سے مجلس کا دفتر با قاعدہ طور پر گیسٹ ہاوس (دارالا نوار قادیان کے ایک گرہ میں قائم کر دیا گیا اور شیخ عبدالرحیم شر ما صاب کو ہی میں روپیہ مشاہرہ پر بطور کلرک مقر کہ دیا گیا۔ان کے علاوہ ایک مددگار کارکن بمشاہرہ بارہ روپے کی منظوری بھی دی گئی۔۱۳۲۰ هش ه الفضل ۷۶ر فتح برد سمیر ۲۷ بردسیر بیش " 1901 سے یہ رجسٹر اب بھی دفتر مرکزیہ میں موجود ہے۔