تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 40
" ساتھ بیٹھ جاؤ، اس طرح پندرہ دن کے اندر اندر قادیان کی تمام جماعت کو منظم کیا جائے گا اور ان سے وہی کام لیا جائیگا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسم کے صحابہ رضی الہ عنہم سے لیا گیا یعنی کچھ تو اس بات پر منظر کئے جائینگے کہ وہ لوگوں کو تبلیغ کریں کچھ اس بات پر مقرر کئے جائیں گے کہ وہ لوگوں کو قرآن اور حدیث پڑھائیں۔کچھ اس بات پر منفرد کئے جائیں گے کہ وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کریں کچھ اس بات پر مقر کئے جائیں گے کہ تعلیم و تربیت کا کام کریں اور کچھ يزكيهم کے دوسرے معنوں کے مطابق اس بات پر مقرہ کئے جائیں گے کہ وہ لوگوں کی دنیوی تعالی کی تدابیر عمل میں لائیں۔یہ پانچ کام ہیں جو لازماً ہماری جماعت کے ہر فرد کو کرنے پڑیں گے ، اسی طرح جس طرح تباعت فیصلہ کرے اور جس طرح نظام ان سے کام کا مطالبہ کرے۔جو شخص کسی واقعی عذر کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکتا ، مثلاً وہ مفلوج ہے یا اندھا ہے یا ایسا بیمار ہے کہ چل پھر نہیں سکتا، ایسے شخص سے بھی اگر عقل سے کام لیا جائے تو فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔الا ماشاء اللہ۔مثلاً اسے کہ دیا جائے کہ اگر تم کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم سے کم دو نقل روزانہ پڑھکر جماعت کی ترقی کے لیے دعا کر دیا کرو ہیں ایسے لوگوں سے بھی اگر کچھ اور نہیں تو دعا کا کام لیا جا سکتا ہے۔در حقیقت دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو کوئی نہ کوئی کام نہ کرسکے قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں وہی شخص زندہ رکھا جاتا ہے جو کسی نہ کسی رنگ میں کام کر کے دوسروں کے لیے اپنے وجود کو فائدہ بخش ثابت کر سکتا ہے اور ادنی سے اونی حرکت کا کام جس میں جسمانی محنت سرب سے کم برداشت کرنی پڑتی ہے، دعا ہے۔“ اس کے بعد ۲۳- اگست شاہ کے خطبہ جمعہ میں ذیلی تنظیموں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔دوستوں کو معلوم ہے کہ میں نے جماعت کو تین حصوں میں منظم کرنے کی ہدایت کی تھی ایک حصہ الطفال الاحمدیہ کا یعنی پندرہ سال تک کی عمر کے لڑکوں کا ایک حصہ خدام الاحمد نیکا مینی سولہ سال سے چالیس سال تک کی عمر کے نوجوانوں کا اور ایک حصہ انصار اللہ کا جو چاہیں سال سے اوپر کے ہیں خواہ کسی عمر کے ہوں ، میں سمجھتا ہوں کہ ہر وہ نو جوان جو خدام الاحمدیہ میں شامل ہونے کی عمر رکھتا ہے لیکن وہ اس میں شامل نہیں ہوا اس نے ایک قومی تحریم کا ارتکاب کیا ہے اور الفضل ١٣ ستمبر "