تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 41
الم اگر کوئی شخص ایسا ہے جو چالیس سال سے اوپر کی عمر رکھتا ہے مگر وہ انصار اللہ کی تھیں میں شامل نہیں ہوا تو اس نے بھی ایک قومی مجرم کا ارتکاب کیا ہے مگر مجھے امید رکھنی چاہئے کہ ایسے لوگ یا تو بالکل نہیں ہوں گے یا اپنے قلیل ہوں گے کسان قلیل کو کسی صورت میں بھی جماعت کے لیے کسی دھبہ یا بدنامی کا موجب قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ قلیل استثنا کسی جماعت کے لیے بدنامی کا موجب نہیں ہوا کرتے۔۔۔۔۔پس میں امید کرتا ہو کہ ہماری جماعت کا نمونہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ میرے پاس رپورٹین پہنچتی رہی ہیں ان میں سے غالب اکثریت نے اس تنظیم میں اپنے آپ کو شامل کر لیا ہے، لیکن میں دوستوں سے یہ کہ دینا چاہتا ہوں کہ محض ظاہری شمولیت کافی نہیں جب تک وہ عملی زنگ میں بھی کوئی کام نہ کریں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے عملی نمونہ ہے یہ ثابت کر دینگے کہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی واحد جماعت آپ ہی ہیں اور یہ ثبوت اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ آپ لوگ اپنے اوقات کی قربانی کریں، اپنے مالوں کی قربانی کریں، اپنی جانوں کی قربانی کریں اور خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت اور احمدیت کی ترویج کے لیے دن رات کوشش کرتے رہیں، اگر ہم یہ نہیں کرتے اور محض اپنا نام لکھا دینا کافی سمجھتے ہیں تو ہم اپنے عمل سے خدا تعالیٰ کی محبت کا کوئی ثبوت نہیں دیتے پیس صرف ان مجالس میں شامل ہونا کافی نہیں بلکہ اپنے اعمال ان مجالس کے اغراض و مقاصد کے مطابق ڈھالنے چاہئیں، انعدام الاحمدیہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال سے خدمت احمدیت کو ثابت کر دیں ، انصار اللہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال سے دین اسلام کی نصرت نمایاں طور پر کریں اور اطفال الاحمدیہ کا فرض ہے کہ ان کے اعمال اور ان کے اقوال تمام کے تمام احمدیت کے قالب میں ڈھلے ہوتے ہوں جس طرح بچہ اپنے باپ کے کمالات کو ظاہر کرتا ہے اسی طرح وہ احمدیت کے کمالات کو ظاہر کرنے والے ہوں ، یہی غرض اس نظام کو قائم کرنے کی ہے اور یہی غرض انبیاء کی جماعتوں کے قیام کی ہوا کرتی ہے۔حضرت امیر المومنین کے ارشادات کی روشنی میں متعدد بار اخبار الفضل میں یہ بیرونی مجالس کا قیام اعلان کیاگیا کہ قادیان سے باہر اندرسون بند یا بیرون ہند جہاں جہاں جاتیں ہوں وہ بھی انصاراللہ کی تنظیم قائم کریں اور حضور کے خطبات میں جو ہدایات دی گئی ہیں ان کے مطابق کام