تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 39
کے مثیل ہو تو تمہیں اپنے اندر صحابہ کی صفات بھی پیدا کرنی چاہئیں اور صحابہ کے متعلق یہی ثابت ہے کہ ان سے بین کا کام حکماً کیا جاتا تھا اس جب صحابہ کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ دینی احکام کے متعلق کسی قسم کی چون و چرا کریں تو تمہیں یہ اختیار کس طرح حاصل ہو سکتا ہے۔جماعت کی تین ذیلی تنظیمیں ir میں میں قادیان کی جماعت کو آندو تین گروہوں میں تقسیم کرتا ہوں، اول اطفال الاحمدیہ ہ سے ۱۵ سال تک ، دوسم خدام الاحمدیہ ۱۵ سے ۴۰ سال تک، سوم انصار اللہ ۴۰ سے اوپر تک۔ہرا احمدی کا فرض ہے کہ وہ اپنی عمر کے مطابق ان میں سے کسی نہ کسی مجلس کا ممبر بنے خدام الاحمدیہ کا نظام ایک عرصہ سے قائم ہے۔مجالس اطفال احمد یہ بھی قائم ہیں، البتہ انصار الله کی مجلس اب قائم کی گئی ہے اور اس کے عارضی انتظام کے طور پر مولوی شیر علی صاحب کو پریزیڈنٹ اور مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم۔اے ، خانصاحب مولوی فرزند علی صاب اور چو ہدری فتح محمد صاحب کو سیکرٹری بنایا گیا ہے۔یہ اگر کام میں سہولت کے لیے مزید سیکریٹری یا اپنے نائب مقرر کرنا چاہیں تو انہیں اس کا اختیار ہے ان کا فرض ہے کہ تین دن کے اندر اندر مناسب انتظام کر کے ہر محلہ کی مسجد میں ایسے لوگ مقرر کر دیں جو شامل ہونے والوں کے نام نوٹ کرتے جائیں اور پندرہ دن کے اندر اندر اس کام کو تکمیل تک پہنچایا جائے اس کے لیے قطعاً اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ محلوں میں پھر کہ لوگوں کو شامل ہونے کی تحریک کریں، بلکہ وہ مسجد میں بیٹھے ہیں جس نے اپنا نام لکھانا ہو وہاں آجائے اور جس کی مرضی ہو مبر بنے اور جس کی مرضی نہ ہو نہ بنے۔جو ہمارا ہے وہ آپ ہی ممبر بن جائیگا اور جو ہمارا نہیں اسے ہمارا اپنے اندر شامل رکھنا بے فائدہ ہے۔پندرہ دن کے بعد مردم شماری کر کے یہ تحقیق کی جائے گی کہ کون کون شخص باہر رہا ہے۔اگر تو کوئی شخص دیدہ دانستہ باہر رہا ہو گا تو اسے کیا جائے گا کہ چونکہ تم باہر رہے ہو اس لیے اب تم باہر ہی رہ ہو مگر جو کسی معذوری کی وجہ سے شامل نہ ہو سکا ہوگا اسے ہم کہیں گے کہ گھر کے اندر تمہارے تمام بھائی بیٹھے ہیں آؤ اور تم بھی انکے