تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 288 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 288

۲۶ - بڑی مجالس کی تیلی کو کراچی اور لاہور کی مجالس بہت بڑی تھیں اور بڑے وسیع علاقے میں کھیلی ہوتی تھیں۔ان میں ایک نعیم اعلیٰ کے لئے کام سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا اس لئے صدر محترم نے ان شہروں کوکئی حصوں میں تقسیم کر دیا اور ہر حصہ کے لئے الگ الگ زعماء اعلیٰ مقرر فرمائے تاکہ کام سہولت سے اور بہتر رنگ میں سرانجام دیا جا سکے۔یہ بھی مد نظر تھا کہ ایک ہی شہرمیں کئی حلقے ہوں گے تو ان میں مسابقت کی روح پیدا ہو گی اور ایک حلقہ دوسرے حلقے کے لئے بیداری کا موجب ہوگا۔اس انتظام کے ماتحت اس وقت لاہور میں پانچ اور کراچی میں چار زعماء اعلے کام کر رہے ہیں۔ان زعماء اصلا کے کام میں باہمی ربط و تعاون ناظم ضلع کے توسط سے قائم رہتا ہے۔مندرجہ بالا شہروں کے علاوہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی اراکین کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ایک زعیم پوری طرح کام نہیں چلا سکتا اس لئے ہرشہر کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ہر حلقہ حسب قواعد ایک زعیم کی نگرانی میں ہوتا ہے اور تمام زعما کے اوپر ایک زعیم اصلا مقرر ہے ہو قواعد زرعیم کی بحیثیت مجموعی تمام حلقوں کی کارکردگی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ریوه ، لائل پور ، سرگودہا ، راولپنڈی ، اسلام آباد، سیالکوٹ ، پشاور ، کوئٹہ ، حیدر آباد منان ، منڈی بہاؤ الدین۔نئی نسل کی تربیت اور اصلاح کے لئے آپ نے سنڈے کلاسمر ۳۔سنڈے کلاسٹر کی تحریک کے اجرا کی تحریک فرمائی۔بڑی بڑی مجالس میں جہاں جماعت کے افراد کی تعداد کافی ہے اس امر کی کمی محسوس ہو رہی تھی کہ بچوں کی دینی تعلیم کا معقول انتظام نہیں ہے اور اس کی وجہ سے بہت سی خرابیاں پیدا ہونے کا اندیشہ تھا اس لئے آپ نے یہ تحریک فرمائی کہ بڑی مجالس ہفتہ میں کوئی ایک دن ایسا مقررکر لیں جیں ہی بچے ایک جگہ جمع ہوسکیں اور ان کو مناسب رنگ ہیں تعلیم و تربیت دی جا سکے۔مجلس شوری کے موقعہ پر جو عموماً اپریل کے مہینہ میں منعقد ہوتی - شوری ناظمین اضلاع ہے نام جماعتوں کے نمائندے ملک کے مختلف علاقوں سے جمع ہوتے ہیں اور تین چار دن ربوہ میں قیام کرتے ہیں۔اس اجتماع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے صدر