تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 287 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 287

۲۸۵ سترھواں باب مجلس انصاراللہ کا پانچواں نور نومبر ۱۹۶۵ء میں جب اللہ تعالٰی نے حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثالت ایدہ اللہ تعالٰے بنصرہ العزیز کو خلافت کے منصب جلیلہ پر سرفراز فرمایا تو اس کے بعد حضور ایک سال تک بدستور مجلس انصار اللہ کے صدر رہے اور دو اجلاس بھی دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں حضور کی زیر صدارت منعقد ہوئے لیکن خلافت کی وسیع اور گوناگوں مصروفیات اور ذمہ داریوں کے پیش نظر بعد ازان انصار اللہ کے کام کی براہ راست نگرانی حضور خود نہیں کر سکتے تھے اس لئے حضور نے یہ کام حضرت صاجزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے سپرد فرما دیا اور ان کو مجلس کا نائب صدر نامزد فرمایا۔یہاں سے گویا مجلس انصار اللہ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔مجلس انصار اللہ کے کام کی رہنمائی جب حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے سپرد ہوئی تو آپ کی زیر نگرانی مجلس کے تمام کام حسب سابق پوری توبہ اور انہماک سے جاری رہ ہے اور جس نہج پر پہلے پروگرام جاری تھے۔بدستور اپنی لائنوں پر کام ہوتا رہا البتہ بعض امور میں اپنے تبدیلی کی ضرورت محسوس کی اور بعض نئی چیزوں کو شروع کیا جن کی تفصیل درج ذیل ہے :- -۱- صدر کے سیکرٹری کا تقرر چوہدری محمد ابراہیم ایم اے جو کئی سال سے انچارج دفتر کی حیثیت سے نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے سے کام کر رہے تھے ان کیش سر کردگی کے پیش نظر او اس وجہ سے بھی کہ وہ تنظیم انصار اللہ کی تفاصیل پر پوری طرح حاوی ہونے کی وجہ سے بڑے معقول اور مفید مشورے پیش کرتے تھے۔صدر محترم نے پسند فرمایا کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔اس لئے آپ نے مجلس عاملہ مرکزیہ کے مشورہ سے انہیں سیکرٹری برائے صد ر نا مزور فرمایا۔