تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 28
ہوسکیں گر ہر طریق ہیں ہے کہ بچوں کو یہاں بھیجیں کیونکہ یہاں میں خود تربیت کے متعلق سبق دیتا ہوں ان کی تربیت کرتا ہوں تھوڑے دنوں میں ہی تہ بہت اعلی رنگ میں ہوگئی ہے، دوست بچوں کو قادیان میں اگر بعض نہیں بھیج سکتے تو اپنے پاس ہی ان کی تربیت کریں۔خلافت کی گوناگوں مصروفیات اور ذمہ داریوں کے باوجود حضور نے نوجوانوں کی اصلاح کے لیے ایک سکیم تیارہ کی اور اس کو پروان چڑھانے کے لیے خود جلسوں میں شرکت فرمائی اور طلبہ کو ہدایات جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا بچوں کو نصائح کرنے اور ان کی تربیت کرنے کا کام مدارس کے اساتذہ اور سلسلہ کے بزرگوں کے سپر د بھی کیا جا سکتا تھا، لیکن حضور کا اس کام کو خود اپنے ہاتھ میں لینا ظاہر کرتا ہے کہ حضور کے نزدیک یہ کام کس قدر اہم اور ضروری اور کسقدر توجہ کا محتاج تھا، مختلف جلسوں کی کارروائی پر نگاہ ڈالنے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عام واخطانہ طریق سے ہٹ کر حضور نے نفسیاتی طریقہ استعمال کیا ، پہلے اپنے آپ کو بچوں کی سطح پر لے آئے، ان سے ذاتی ربط پیدا کیا اور پھر عام قسم انداز میں ہر بات اس رنگ سے ان کے سامنے پیش کی کہ وہ ان کے لیے مقلد قابل قبول ہو حضور کی ہدایات جہاں اخلاقی اور روحانی امور اور تزکیہ نفس کے طریقوں پرمشتمل ہیں وہاں ان میں صحت کے قیام اور اقتصادی خوشحالی کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔چونکہ حضور کا نشان یہ تھا کہ بیرونی مقامات پر بھی نوجوانوں اور بچوں کی ایسی ہی مجالس قائم کی جائیں اور اسی نہج پر تربیت ہو اس لیے مختلف جلسوں کی کارروائی اپنے الفاظ میں اختصار سے پیش کی جاتی ہے تا کہ دو بچوں کی اصلاح کے لیے نمونہ کا کام دے سکے۔اس انجمن کی کارروائیوں کا مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب انور سابق انچار ج تحریک جدید سابق پرائیویٹ سیکرٹری ریجو اس زمانہ میں مولوی فاضل کلاس میں پڑھتے تھے اور اس انجمن کے نمبر تھے اور ڈائریاں لکھنے کا شوق رکھتے تھے) کی ڈائری سے کچھ تفصیلات کا علم ہوتا ہے۔اس ڈائری کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس انجمن کے اجلاس بعد نماز عصر مدرسہ احمدیہ قادیان کے صحن میں عموماً ہر ہفتہ یا ہفتہ میں دوبار (یعنی بروز جمعہ اور پیر منعقد ہوا کرتے تھے اور حضرت امیرالمومنین بنفس نفیس تشریف لا کر ہدایات دیتے تھے ان جلسوں میں مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول دونوں کے طلبہ بالخصوص وہ جو بورڈنگ میں رہتے تھے شامل ہوتے تھے۔شمال ہونے والوں کی تعداد بقول عبد الرحمن صاحب انور بہت زیادہ نہ ہوتی تھی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نسبہ بڑی عمر کے طلبہ سے اب یہ ڈائری ماہنامہ خالد بابت مارچ تا ستمبر 11ء میں شائع ہو چکی ہے۔