تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 29
۲۹ شریک ہوتے تھے طلبہ کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہم گروپ کا ایک گروپ لیڈر ہوتا تھا۔اجلاس کے وقت طلبہ کے ساتھ ان کے بعض اساتذہ بھی بطور نگراں شریک ہوتے تھے ، حضور نے انجمن کے نمبروں میں شوق پیدا کرنے اور یہ امرق من نشین کرانے کے لیے کہ انھوں نے اپنے لیے ایک ممتاز مقام پیدا کرنا ہے ایک بینچ بھی تجویز کیا تھا جس پر لکھا تھا نحن انصار اللہ اور اس پر منارة المسیح کا ڈیزائن بنا ہوا تھا۔مولوی عبدالرحمن صاحب انور کی ڈائری کے مطابق ان جلسوں کا سلسلہ ہر نومبر ۱۹۳۷ء سے ۲۲ اپریل تک جاری رہا، اس عرصہ میں کم وبیش ۳۲ اجلاس منعقد ہوئے حضرت امیرالمومنین کی مصروفیات کے پیش نظر یا طلبہ کی موسمی تعطیلات کے پیش نظر ان جلسوں میں بعض دفعہ لیے وقتنے بھی پڑ جاتے تھے حضور کی فرمودہ نصائح اور ہدایات کا خلاصہ درج ذیل ہے :- حضور نے فرمایا ہر قبر کو آیتہ الکرسی اور تین آخری سورتیں یاد ہونی چا ہیں ، رات کو سونے وقت اتبدا انا ایک بار اور جب عادت پڑ جائے تو تین بار پڑھنا چاہیے ، اس کے علاوہ اپنی زبان میں بھی چھوٹی چھوٹی دعائیں رنگ لی جائیں تو بہتر ہے۔ہر نمبر کے پاس تین چیزیں ہونی چاہئیں بینی قرآن کریم کشتی نوح اور ریاض الصالحین۔پندرہ سال سے زائد عمر کے لڑکے ہر روز چار رکوع قرآن کے اور دو صفحے کشتی نوح کے پڑھ لیا کریں اور اس میں کبھی ناغہ نہ ہو۔مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول کے ایک ایک طالبعلم کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا گیا تھا اس کے بارے میں فرمایا کہ اس اخوت کا قیام اس لیے ہے کہ ایک تو یہی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے دوسرے اس لیے کہ وہ ایک دوسرے کے نگران رہیں اور نیک کاموں میں مدد کریں، اخوت کی سات شرائط یہ مقرر کیں (ا) ہم دونوں اپنی میں بھائی بھائی بن کر رہیں گے (۲) ہم دونوں ایک دوسرے سے اللہ محبت کرینگے (۳) ہم ایک دوسرے سے مل کر اسلام اور احمدیت کی خدمت کریں گے (۴) ہم ایک دوسرے سے مل کر سلسلہ کے نظام کی مضبوطی میں کوشش کرتے رہیں گے (ہ) ہم ایک دوسرے کو نیکی کی تحریک کرتے رہیں گے (4) ہم ایک دوسرے کو بڑی باتوں سے بچانے کی کوشش کرتے رہیں گے (6) ہم ایک دوسرے سے مل کر علم کی ترقی اور امن کی زیادتی میں کوشش کرتے رہیں گے۔فرمایا دو کا ملانا تو خصوصیت کے لیے ہے در نہ اخوت تمام ان لوگوں کے ساتھ بھی ہے جو اس ایسوسی ایشن کے نمبر نہیں۔یہ سب سے افضل ہے کہ ہر ایک کو احمدیت سے محبت ہوا اور اس سے بھی جس کے نام کے ساتھ احمدی لگا ہو، اس کی غرض یہ بھی ہے کہ تا یہ مشق کرائی جائے کہ تمام لوگوں سے خواہ کسی مذہب کے ہوں ،