تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 24 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 24

۲۴ ہر ایک شخص اپنے تجمع کردہ اپنے کو اس سفر میں خرچ کریگا۔اسے کوئی بیرونی امداد نہیں دی جائے گی۔ہجو لوگ ایک روپیہ سے زائد جمع کرائیں گے ان کا گردہ زیادہ دور کے علاقوں میں بھیج دیا جائیگا۔اس طرح ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغ کی ایک تحکیم تیار کی گئی۔یہ تحریک لازمی نہ تھی، بلکہ ممبران کے صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا کہ جو اس میں حصہ لینا میں ہیں۔رحمتہ ہیں۔اس تجویز کے مطابق فوری طور پر جن اصحاب نے چندہ دینا منظور کیا ان کے پر نام بید شیخ عبد الرحمن صاحب لاہوری سیکرٹری انصا بالله ، صوفی غلام محمد صاحب شیخ یعقوب علی صاحب، حکیم محمد عمر صاحب ، شیخ غلام احمد صاحب مولوی شیر علی صاحب مندرجہ بالا تجویز کے علاوہ آپ نے انصار اللہ کے ایک جلسہ منعقده ۱۸ جولائی ۱۹۱۳ء میں مندرجہ ذیل تجاویز پیش کیں۔1- مختلف شہروں میں لیکچروں کا سلسلہ چھوٹے چھوٹے ٹریکیوں کا سلسلہ جو ہر سہ ماہی شائع کئے جائیں۔- مختلف شہروں میں انصار بھیجے جائیں جو کچھ مدت وہاں رہیں۔شو انہیں بھی جائیں جو کچھ مت وہاں ہیں۔-- چھوٹے ٹریکیوں کو فروخت کیا جائے۔- کوئی واعظ مقرر کیا جائے جو مختلف جگہ پھیرے خصوصاً احمدیوں میں۔پہلی تجویز کے بارے میں فرمایا کہ جو انصارہ ماہوار چندہ جمع کراتے ہیں انہیں ہی اس کام پر لگا دیا جائیگا۔کام دوسری تجویز کے بارے میں فرمایا کہ چھوٹے ٹرکیٹ کم از کم دس ہزار کی تعداد میں شائع کئے جائینگے اور اس غرض کے لیے فنڈ اکٹھا کیا جائے۔میری تجویز کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ملازم پیشہ ہیں وہ ایک ماہ کی رخصت لیکر اور جو دیگر کاروبار کرتے ہیں وہ ایک ماہ کی فرصت نکال کر پنجاب یا ہندوستان کے کسی علاقہ میں جاکر اپنے خرچ پر سکونت اختیار کریں اور حسب موقع کچھ وعظ وغیرہ کرتے رہا کریں، لوگ ان کے نیک نمونہ اور اخلاق حسنہ سے متاثر ہو کر حق کو قبول کرنے کی طرف آمادہ ہو جائیں گے ، صحابہ نے بھی یہی طریق اختیار کیا تھا۔چوتھی تجویز کے بارے میں فرمایا کہ بعض لوگوں کو قیمتاً ٹریکٹ دیئے جائیں تاکہ وہ ان کو پڑھنے کی طرف متوجہ ہوں۔